Sunday, 12 April 2015

میں کیوں

میں کیوں

SAd                                    



میں کیوں خود ہی شکست مان رہا ہوں
میں کیوں جیت کی پیاس بجھا رہا ہوں

میں کیوں بس یونہی جیتا جا رہا ہوں
میں کیوں اب جینے سے کترا رہا ہوں

میں کیوں مصلحتوں میں الجھتا جا رہا ہوں
سچ جان کر بھی جھوٹ بتلا رہا ہوں

میں کیوں اتنا درد سینے میں چھپا رہا ہوں
دل کے رستوں پر پہرے بیٹھا رہا ہوں

میں کیوں آسماں تجھ سے نظریں ملا رہا ہوں
اور پھر زمین میں خود ہی دھنستا جا رہا ہوں

میں کیوں در بدر کی ٹھوکریں کھا رہا ہوں
بس انا کی خاطر چینختا چلا جا رہا ہوں 

میں کیوں دلاسوں پر دلاسے دیے جا رہا ہوں
شاید رات گزارنے کی سازش بنا رہا ہوں

میں کیوں اب خود سے نظریں چرا رہا ہوں
شاید ایک نہ ایک دن پکڑ میں جو آرہا ہوں


میں کیوں بوسیدہ سوچوں میں ڈوبی جا رہا ہوں
لگن کے بدلے سستی گلے سے لگا رہا ہوں

میں کیوں اپنے ہونے کا جتن جتا رہا ہوں
زندگی میں تو تجھے نکچڑی بنا رہا ہوں

میں کیوں سچائی سے منہ چھپا رہا ہوں
فانی دنیا کی خاطر آخرت گنوا رہا ہوں

میں کیوں اپنے گناہوں پر پردہ ڈال رہا ہوں
شاید خود ہی خود کو بے وقوف بنا رہا ہوں


میں کیوں بس یونہی لکھتا جا رہا ہوں
شاید کاغذ قلم کی قیمت چکا رہا ہوں




کبھی کبھار آپ کی زندگی میں وقت ایسا آتا ہے کہ آپ کی زندگی بہت سے کیوں کے گرد گھومنا شروع ہوجاتی ہے. ہم جتنی جلدی اس کیوں کیا جواب تلاش کریں گے ہمارے لئے اتنا ہی اچھا ہے ورنہ یہ کیوں بڑھ کر ایک سانپ کی طرح ہمیں نغل جائے گا.

Monday, 23 March 2015

اڑنے دو

اڑنے دو

                                                         (SAd Special)





اڑنے دو، اڑنے دو
مت چھینو ان سے آزادی
خوشی سے ذرا کھل کر جینے دو
اڑنے دو، اڑنے دو

آسمان کی بلندی کو چھونا ہے اک فن
فن میں ہے مہارت محنت کے سنگ
اس محنت سے ذرا گلے ملنے دو
ملنے دو، اڑنے دو، اڑنے دو

لہوں ہے انکا کچھ زیادہ ہی گرم
جوش مارتا ہے پہن کر کفن
لڑنے کو ہیں تیار بس مواقعے ہے کٹھن
مواقعے دو، اڑنے دو، اڑنے دو

گر جائیں تو کیا ہے غم
لٹ جائیں تو کیا ہے ستم
لے کر پرواز خود سے دنیا گھومنے دو
گھومنے دو، اڑنے دو، اڑنے دو

ہے یہ زمانہ کچھ سیکھنے سکھانے کا
امیدوں کے ساغر میں ڈبکی لگانے کا
جدت سے زمانے کو اک نئی سمت میں ڈھلنے دو
ڈھلنے دو، اڑنے دو، اڑنے دو

اک دفعہ جو الله کا نام لیکر بھر لی اڑان
پھر چاہے شکاری بھی روک کر دیکھ لے پروان
دیکھ لیں گے سب کو بس ذرا پھلنے پھولنے تو دو
پھلنے پھولنے تو دو، اڑنےدو، اڑنے دو

ہمارے جوان ہیں تقسیم مختلف قوموں میں
قید ہیں فرقہ پرستی کی زنجیروں میں
کرو تم ان کو آزاد اور کھل کر جھومنے دو
جھومنے دو، اڑنے دو، اڑنے دو

یہ دھرتی ہے گھیری لاکھوں مشکلوں میں
مانگتی ہے امن قید ہو کر زنجیروں میں
مغرب کی تدبیروں سے بھی ذرا نمٹنے دو
نمٹنے دو، اڑنے دو، اڑنے دو

تعمیر وطن ہے ان شاہینوں کی امنگ
آجائیں جو رت میں آجائیں تو دیکھا دیں گے ڈھنگ
قومی جذبے سے ہیں شرشار ذرا حوصلہ تو دو
حوصلہ دو، اڑنے دو، اڑنے دو

دین کے ہیں محافظ یہی جوان
چڑھاینگے اسلام یہی پروان
اسلام کی سربلندی کا بیڑا اپنے ہاتھوں میں تھامنے دو
تھامنے دو، اڑنے دو، اڑنے دو


عشق محبت کے فلسفے سے رکھو دور
سکھاؤ انکو گھر گھرستی کے اصول
ڈال کر تھوڑا گھر کا بوجھ انہیں پنپنے دو
پنپنے دو، اڑنے دو، اڑنے دو

ڈوب رہے ہیں یہ دنیا میں
کھب رہے ہیں یہ مستی میں
جگانے کا وقت آگیا ہے، انہیں تم جاگنے دو
جاگنے دو، اڑنے دو، اڑنے دو

آخر کب تک کوسیں گے اپنے حالات
کب تک رہیں گے یہ دہنگے فساد
کچھ کرنے کی چاہ ہے تو کر گزرنے دو 
کر گزرنے دو، اڑنے دو، اڑنے دو

بنانے تو دو تھوڑا ارادہ
 جٹانے تو دو ذرا سی ہمت
 بس مقصد کی خاطر یکجا ہونے دو
یکجا ہونے دو، اڑنے دو، اڑنے دو



پتا نہیں کیوں میں اس کو ابھی تک مکمل نہی کر سکا. یہ کوئی چار پانچ مہینے سے مکمل کرنے کی کوہشش کر رہا ہوں مگے نہیں کر پا رہا. مینے تو اس نظم کو اپنی طرف سے پندرہ منٹ میں لکھنا تھا مگر پھر جب اس کا نقشہ سامنے آیا تو لگا کہ یہ تو میری سوچ سے بہت اپر ہے. خیر! اب یہ آپ کے سامنے ہے. امید ہے آپ کو اس نظام کا مقصد سمجھ آجائے.....

Tuesday, 10 March 2015

عکس

عکس
                     نائیل 




جب بھی اسے ڈھونڈا
میں ڈھونڈتا ہی رہ گیا

جب بھی اسے مانگا 
میں مانگتا ہی رہ گیا

جب بھی اسکا نام لیا
میں رشک کرتا ہی رہ گیا


جب بھی اسکا خواب دکھا
میں تعبیر پوچھتا ہی رہ گیا

جب بھی اسکی دہلیز سے گزرا
میں بس دروازہ تکتا ہی رہ گیا

جب بھی اسکا حال پوچھا 
میں شکر ادا کرتا ہی رہ گیا

جب بھی اس کا خیال آیا
 میں اسی خیال میں کھویا رہ گیا 

جب بھی اسکو سمجھنا چاہا
میں اسی میں الجھا رہ گیا

جب بھی اسکے بنا جینا چاہا
میں تنہا جیتا ہی رہ گیا

جب بھی اسکو بھولنا چاہا
میں خود سے شرمندہ ہوتا ہی رہ گیا

جب بھی اسکا قصّہ مکمل کرنا چاہا
اس کے عکس کو تلاش کرتا ہی رہ گیا

Tuesday, 24 February 2015

انقلابی

انقلابی

                   (SAd Special) 




سن او انقلابی
یوں تو انقلاب نہیں لاتے انقلابی
یوں تو جنوں کا ضیاع نہیں کرتے انقلابی
ظلم و ستم سے ستائے ہوتے ہیں انقلابی
مصیبتوں اور لغزشوں سے نہیں گھبراتے انقلابی
اک پختہ عزم کے تحت ہی نکلتے ہیں انقلابی
بھوک اور پیاس سے نہیں گھبراتے انقلابی
خود دنیا جہاں کی مشکلیں جھیل کر
دوسروں کو راحت پہنچاتے ہیں انقلابی
مرنے مارنے سے کبھی نہیں کتراتے انقلابی
چوٹ کھا کر شکوہ شکایت نہیں کرتے انقلابی
اپنے زخموں کو دیکھ کر حوصلے بڑھاتے ہیں انقلابی
رکاوٹیں تو دور کی بات ہے
 کبھی گولیوں سے بھی نہیں شرماتے انقلابی
شیر کی طرح  لڑتے ہیں انقلابی
عورتوں اور بچوں کو ڈھال نہیں بناتے انقلابی
دکھا کر سینہ چڑھ دوڑھتے ہیں انقلابی
اسی لئے تو نت نئی سازشیں نہیں بناتے انقلابی
اک فیصلے پر ڈت جاتے ہیں انقلابی
دھن سے زیادہ من کی سنتے ہیں انقلابی
پھر کسی کی کال پر بپھرتے نہیں ہیں انقلابی
عوام کی امنگوں کا عکس ہوتے ہیں انقلابی
ہر دکھ درد میں ساتھ نبھاتے ہیں انقلابی
راتوں کو چھپ کر گھر کو بھاگ نہیں جاتے انقلابی
آخر حقوق کی خاطر ہی تو سڑکوں پر نکلتے ہیں انقلابی

غلامی کی زندگی سے نجات دلاتے ہیں انقلابی
 اور یہ عوام بھی بڑی ظالم ہے او انقلابی
بیٹھا کر سروں پر خود بناتی ہے انقلابی
پھر جرنیل تو کیا آمر سے بھی معافی منگواتے ہیں انقلابی
بس لوگوں کے گھروں میں آگ نہیں لگاتے انقلابی
لوگوں کی پگھڑھیاں نہیں اچھالتے انقلابی
جھوٹے الزاموں سے نہیں ڈراتے دھمکاتے انقلابی
کوئی ساتھ دے تو ٹھیک، نہ دے تو بھی نہیں کوستے انقلابی
مدد کے لئے کسی امپائر کا سہارا نہیں لیتے انقلابی
ہاں کوئی خودی آجائے تو گلے سے لگاتے ہیں انقلابی
اپنے سارے دکھڑے تب ہی سناتے ہیں انقلابی
انصاف کی امید رب سے ہی لگاتے ہیں انقلابی
پھر اسی کی مدد سے ہی ملتی ہے کامیابی
پھر اس کے بعد ہی تو بنتا ہے اصل انقلابی



میری یہ آزاد نظم تقریباً ٢٨ اگست ٢٠١٤ کو مکمل ہو گئی تھی مگر حالات  نزاکت کی وجہ سے اس کو آپ کے سامنے پیش نہیں کر سکا. میرے خیال سے ہمیں کبھی کبھار مشکل حالات میں صبروتحمل سے کام لینا پڑتا ہے اور ہمارایک غلط قدم ،الک اور قوم کے لئے وبال جان بن سکتا ہے. شاید اسی حکمت کے تحت آج تک یہ آپ کو پیش نہیں کی. خیر آپ اس کو ضرور پڑھیے گا اور اپنی آرا سے مجھے ضرور آگاہ کی کیجئے گا. اور ہاں اردو ادب کی فکر ذرا کم کیجئے گا، کیوں کہ آپ جو سوچ رہے ہوں گے وہ غلط بھی ہو سکتا ہے اور اس میں میرا اور آپ کا قصور نہیں ہے.
                              شکریہ!!!!

Monday, 16 February 2015

یاد

یاد

                      SAd 





ذرا سی رم جھم میں تیری یاد جب آتی ہے
ذرا سی جھل مل میں ہمیں بہت ستاتی ہے

ذرا سی کھٹ پٹ  میں لڑائی چھڑ جاتی ہے
ذرا سی چک چک سے بات بگھڑ جاتی ہے

بہار میں پھولوں کی خوشبوں ماحول کو تلملاتی ہے
نظر سے نظر ملانے کی خواہش جاگ جاتی ہے

دل کی دل سے، جان کی جان سے انسیت بڑھ جاتی ہے
فقط زمانے کی روڑے اٹکانے کی عادت آڑے آجاتی ہے


 بیاباں میں بھی تو کلی کھل ہی جاتی ہے
پھر آخر کیوں محبت کی لڑی مرجھ جاتی ہے

امیدوں کے ساغر میں جب تتلی ڈبکی لگاتی ہیں
عاشقوں کی منزل کیسے اپنا رستہ بھول جاتی ہیں


نجانے کیوں حکومت مسائل میں گھر جاتی ہے
ذرا عوام سے پوچھو وہ کیوں کوئی امید لگاتی ہے

تیری یاد جب بھی ہم کو زیادہ ستاتی ہے
حکمت سے بھڑ کر دل میں اپنا راستہ بناتی ہے

ذرا سی آہٹ سے اکثر دھڑکن تیز ہو جاتی ہے
ڈوبتی نییہ کو پار لگانے کی ترکیب سمجھ آتی ہے

جب بھی گریبان میں جھانکنے کی فرصت مل جاتی ہے
شرم سے میری نظر یقدم سے کیوں جھک سی جاتی ہے





کافی دنوں بعد کوئی چیز اتنی آزادی سے لکھی ہے اور جب آزادی سے لکھو تو ٢٠ منٹ ہی لگتے ہیں. اصل میں پکلے کچھ عرصے سے میں پریشان تھا اور پھنسا ہوا بھی. اسی لئے میں میرا اعتماد بھی اپنے اپر سے کم ہو گیا تھا. اب چونکے میں اپنے مسائل سے تقریباً آزاد ہو چکا ہوں اور میرے سینے پر کوئی بوجھ بھی نہیں ہے، اس کا نتیجہ آپ کے سامنے ہے. امید ہے میں میں اور بہتر اور اچھا لکھ سکوں اور لوگوں کو فلاح کی طرف راغب کرسکوں. آمین!


اس میں کچھ جگہ پر الفاظ غلط لکھے ہو سکتے ہیں. اگر آپ کو ایسا لگے کہ یہ لفظ غلط ہے تو اس کی نشاندھی کر دیجئے. میں آپ کا مشکور ہوں گا.

Monday, 2 February 2015

ساتھ

  آس   

          نائیل 



اک آس سی ابھری ہے دل میں
تیرا ساتھ ہو میری زندگی میں

گل کھل رہے ہوں ہمارے آنگن میں
سما سمٹا ہو ذرا سی رم جھم میں

جی رہیں ہوں ہم تم اپنی ہی دھن میں
دنیا جل رہی ہو اسی رنج و الم میں

دور دور تک کوئی دوری نہ ہو بس
لکھا ہو جو جینا تیری میری قسمت میں

رقیب چل رہے ہوں چالیں اپنی اپنی
 مگر پھر بھی ساتھ ہو ساتھ تمہارا ہر اک پل میں


دیے جل رہے ہوں، نینا مل رہے ہوں
اک جشن ہو بھرپا ساری دنیا میں

دوپہر کے کھانے کا جو انتظار ہو
 خوشبو سی پھیلی ہو شہر بھر میں 

تمھارے ہاتھوں کی لذت دل موہ لے
سیکھا ہو جو پکانا ہماری چاہت میں




زندگی یقدم کتنی حسین لگتی ہے
جب تم میرے سپنوں میں دیکھتی ہو

بس اک خیال غمگین کرتا دیتا ہے
کہیں کسی کا دل نہ دکھ جائے اسی جھل مل میں

گر ٹوٹ جاتے ہیں سارے خواب
کھلتی ہے جب آنکھ صبح میں

سارے دکھوں کی وجہ شاید یہی ہے نائیل!
کہ ساتھ ہی نہیں اسکا تیری قسمت میں


آج بہت دنوں کے بعد کچھ نیا پیش کرنے کی ٹھانی تھی. پتا نہیں کیا ہو گیا ہے اب لکھتا ہوں مگر مکمل نہیں کرتا اور اگر مکمل کر لوں تو شئیر نہیں کرتا. کچھ لکھنے کا من کرے تو قلم روک جاتا ہے. شاید...









Sunday, 21 December 2014

آج کا دن

آج کا دن

                                         by SAd



ٹیاؤں!! ٹیاؤں!! ٹیاؤں!! 
ٹیں ! ٹیں! ٹیں!
ٹوں! ٹوں! توں!
ٹیاؤں!  ٹیاؤں! ٹیاؤں!
کی آوازیں مسلسل میرے کانوں میں گونج جا رہی ہیں. مجھے کچھ علم نہیں کہ مجھے کہاں لے کے جا رہے ہیں بس ان عجیب سی آوازوں سے میرا سر چکرا رہا ہے. میرے سامنے کھڑے دو شخص، سخت پریشانی کے عالم میں، ایک دوسرے پر چینخی چلائی جا رہے ہیں اور مجھے ان کی ایک بھی بات سمجھ نہیں آرہی اور مجھے کافی دھندلہ دھندلہ سا دکھائی دے رہا ہے. شاید میری بینائی بھی اب میرا ساتھ چھوڑتی جا رہی ہے. مگر میرا دیہان تو صبح کے منظر میں لگا ہے. آج کا دن کچھ زیادہ ہی لمبا معلوم ہو رہا ہے.

میں آج صبح سات بجنے کے باوجود سو رہا تھا. میری فجر کی نماز بھی چھوٹ گئی تھی. عموماً میری گھڑی کا الارم صبح ٦:١٠ پر روزانہ بج جاتا ہے مگر نجانے کیوں آج اس کے سیل ہی ختم ہو گئے. عین چھ بجے پر سوئی اٹک گئی. میں ابھی نیند میں ہی مدہوش تھا کہ اک دم میرے کانوں میں دروازہ کے کھٹکنے کی آواز سنائی دی اور میری آنکھ کھل گئی.

"بلال! بلال بیٹا! تیار ہو گئے ہو تو ناشتہ کر لو، ابھی دس منٹ میں گاڑی آجاۓ گی. جلدی سے نیچے آجاؤ اور ناشتہ کر لو. آج تمہاری پسند کے سلائس بنائے ہیں."

مجھے ایسا لگا کہ جیسے کسی نے مجھے کوئی شاک دے دیا ہو. "او میرے خدایا! اتنا ٹائم ہو گیا. اف! اب اتنی جلدی تیار کیسے ہوئںگا. آج تو انسپکشن بھی ہے." میں نے من ہی من میں چھٹی کی پلان بنانا شروع کر دیا مگر پھر نجانے مجھ میں اتنی ہمت کہاں سے آئی. میں اٹھا اور اٹھ کر تیار ہونے لگ گیا. غلطی سے کپڑے میں نے رات کو ہی استری کر لئے تھے تو بس منہ شوں دھویا، کپڑے شپڑے پہنے اور سیدھا کھانے کی میز پر پہنچ گیا.

"سعد! آج تم نے پھر دیر کر دی. اب تم پھر آدھا سلائس کھاؤ گے اور پھر تمہاری بس کی پاں پاں ہوگی اور تم بھوکے ہی چلے جاؤ گے." امی جان نے آج پھر مجھے صبح کو ڈاندٹنا شروع کر دیا اور وہ بھی اسی وجہ سے جس وجہ سے پہلے ڈانٹتی تھیں. میری امی مجھے اتنا ڈانت ڈپٹ  نہیں کرتیں بس جس دن میری قسمت خراب ہو تو اس دن میری بہت بےعزتی ہوتی، نہ صرف گھر میں بلکہ اسکول میں بھی. مجھے اندازہ ہو گیا کہ آج وہی دن ہے. اسی لئے میں چپ چاپ سر جھکا کر معصوم بچے کی طرح بیٹھا رہا. اور امی جان بولتی گئیں اور میں سنتا رہا.

مگر ہائے کمبختی میرے منہ سے کیا نکل گیا. "مما! اسکول میں بریک کے وقت لنچ کر لوں گا ناں، آپ تو ایسے کہہ رہی ہیں جیسی آج میں ناشتہ نہیں پورا کروں گا تو مر ہی جاؤں گا" اچانک ماحول میں خاموشی نے بسیرا ڈال دیا. ایسا لگا جیسے کسی نے واقعے میں بری خبر سنا دی ہے. مجھے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ اب میں کیا کہوں. میں اسی سوچ میں گم تھا کہ اچانک پاں پاں کی آواز آئی اور میں جلدی سے خدا حافظ کہہ کر اپنی ماں کو اسی حالت میں چھوڑ کر چلا گیا.

میری آنکھوں کے سامنے کھڑے بندوں کے چہروں پر اب پریشانی بڑھنے لگی ہے. دسمبر کے مہینے میں پسینے سے ان کے چہرے بھر رہے ہیں. میرے چہرے پر جو خوشی کچھ دیر پہلے نمایاں تھی وہ اب شاید دم توڑ رہی ہے. دل کی دھڑکن تیز اور سانس پھول رہا ہے. مگر میرا سر فخر سے بلند ہے، میرے حوصلے جوان ہیں، مگر دل! میرا دل پھر بھی غمگین ہے. آج کا دن ہی کچھ عجیب سا ہے.

اسکول کے راستے میں تو سب کچھ نیا نہیں تھا. وہی  بس، وہی اونچی نیچی سڑک، وہی ڈرائیور اور وہی روز کی کھٹ کھٹ، 'میں نے آگے بیٹھنا ہے، میں نے آگے بیٹھنا ہے' اور میرے ساتھ کون؟ وکی!!! ہائے وکی!!!وکی!! میرا دوست!

ہم پہلی دفعہ پہلی جماعت میں ملے تھے. وہ دن ہے اور آج کا دن، ہم ایک ساتھ ہی ہیں. نہ اس کا میرے بنا اور نہ ہی میرا اس کے  بنا اسکول میں دل لگتا تھا اور شاید اسی لئے آج آٹھ سال گزرنے کے باوجود ہم دوست تھے. ہم کو کتنی ہی دفعہ تو سزائیں ملی. کبھی  کلاس میں باتیں کرتے هوئے تو کبھی کسی کی نقل اتارتے وقت اور نہیں تو ویسے ہی کوئی گڑبڑ ہو جائے تو ہم معصوموں کا نام ہی سامنے آتا تھا. اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم بلکل ہی نیلے تھے بلکہ ہمارا شمار تو ہونہار طلبہ میں ہوتا تھا. بس اک ہی مسلہ تھا کہ وکی ہمیشہ مجھ سے سبقت لے جاتا تھا اور آج بھی اس نے یہی کیا....

جوں جوں وقت گزرہا ہے میرا دل گھٹ رہا ہے. ہمیں ہمارے استاتزہ سمجھا سمجھا کر تھک گئے کہ بیٹا گزرا وقت واپس نہیں آتا، آج پڑھ لو پھر موقعہ نہیں ملے گا. آج ہی سے محنت کرنا شروع کر دو اور ہم نے ایک کان سے سنا اور دوسرے سے نکال دی مگر وہ سہی تھے جو ہو چکا وہ اب واپس نہیں ہو سکتا ہمیں آگے کا سوچنا ہے اور آگے بڑھنا ہے اور مجھے تو اپنی منزل سامنے ہی دکھائی دے رہی ہے.

صبح کو ہم اسکول وقت پر ہی پہنچ گئے تھے اور اسمبلی کی مشقت کے بعد انسپکشن کا وقت آخر آ ہی گیا. خیر میری قسمت اچھی نکلی کیونکہ جب میری چیکنگ کی باری آئی تو مانیٹر کو میڈم نے بلا لیا اور میری بلے بلے ہو گئی. بس پھر وہی گھسیٹی پیٹی کلاس میں ہم واپس چلے گئے. پر آج میرا دل سکول میں لگ نہیں رہا تھا. وقت گزارنا محال ہو رہا تھا. خدا خدا کر کہ پہلی کلاس ختم ہوئی اور میں نے سکھ کی سانس لی. میں نے وکی سے کہا، "چل یار! باہر کی ہوا کھا کر آتے ہیں" مگر جیسے ہی باہر نکلنے لگے تو سامنے سر ظہیر میتھ کی کلاس لینے کے لئے تیار کھڑے تھے. ان کو دیکھ کر میرا سر گھومنے لگ گیا تھا.

"بیٹا! کدھر جا رہے ہو؟ چلو شاباش! کلاس کا وقت ہو گیا ہے، چلو کلاس میں" سر اپنے مخصوص انداز میں بولتے ہوئے ہمیں کلاس میں واپس لے گئے. بس وہی پل تھا، ہاں وہی پل تھا جب برا وقت شروع ہو گیا تھا. سر ابھی کلاس میں آئے ہی ہونگے اور ہم اپنی نشت پر براجمان بھی نہیں ہوئے ہونگے جب اچانک ایک خوفناک سی آواز نے ہمیں ہلا کر دیا. ایسا لگا کہ کسی نے کوئی دروازہ زور سے بند کیا ہو اور پھر دروازے کی دوسری طرف سے بندے نے اسے ایک ہی وار میں توڑ دیا ہو. کلاس میں اس وقت مکمل سناٹا تھا اور ہر کوئی حیران تھا کہ یہ آواز کہاں سے آئی ہے؟

                                                                         End of Part 1
 To be Continued     

Thursday, 18 December 2014

امید

امید

SAd                   




اداس دلوں میں ایک بار پھر سے جان بھر دی
میرے ملک کے بڑوں نے کچھ دوا جو کر دی

درندوں کی ٹھا ٹھا نے عجب رغبت پیدا کر دی
دشمن دھڑوں میں بھی یکجہتی کی فضا پیدا کر دی

ماتم بچھا ہے پھولوں کے شہر میں گلی گلی
مگر ایک ملاقات نے کچھ سوزش کم کر دی

لڑتے، جھگڑتے، انسانوں کی بلی چڑھاتے وحشی
امن پسند لوگوں پر تونے یہ کیسی دہشت پیدا کر دی

ہے پوری قوم رنجیدہ، ماؤں کے کلیجے چھلنی
او ظالم! یہ تو نے  کیسی یہ قیامت بھرپا کر دی

جن ہاتھوں میں ہوتی تھی کاپیاں کتابیں کل تک
ان ہاتھوں میں دوستوں کی لاشیں ہی رکھ دیں

تجھ کو برا بھی کہوں تو کن الفاظ میں کہوں ظالم
تو نے تو بربریت کی  تمام حدیں بھی ترک کر دیں

ڈوبتی نییہ میں پھر سے اک نئی امنگ پیدا کر دی
حکمرانوں نے آج اپنی انا ایک طرف جو رکھ دی 

لوگ کہیں گے جھلے دلاسوں نے تیری آنکھ بند کر دی
 مگر اک فیصلے نے دل کی ساری رنجش دفع جو کر دی

اکٹھے ہونے کا وقت آگیا ہے میرے ہم وطنوں
شکاری نے آج خون سے ندیاں جو تر کر دیں

غم تو بہت بڑا ہے، فقط درد تو بہت سہا ہے
 مگر اک امید نے تھوڑی سی عیادت کر دی

جینے کو تو پوری عمر پڑی تھی
آخر زندگی ہی نے ہی نہ کر دی

مانگوں بھی تو بھلا اب مغفرت کیسے مانگوں
میرے رب نے بچوں کی مغفرت ویسے ہی کر دی


پشاور سانحے کے بارے میں میں کیا کہ سکتا ہوں. کیا لکھ سکتا ہوں، میرے پاسس تو الفاظ ہی نہیں ہیں کہ میں اس واقعہ کا ذکر بھی کروں. اب جو یہ ہو چکا ہے تو ہمیں جگ جانا چاہیے وار اس چیز کو ممکن بنانا چاہیے ک یہ آخری دفعہ ہے. ایسا واقعہ نہ پھر کبھی ہو گا اور نہ کبھی ہونے دیں گے. اسلام کے نام پر اسلام کو بدنام کرنے والوں سے ایک ایک چیز کا حساب لینے کا وقت آگیا ہے. اگر پاکستان کو اپنا وجود برقرار رکھنا ہے اور اگے بڑھنا ہے تو ان درندوں کا جڑ خاتمہ سے خاتمہ کرنا ہو گا. بس بہت کوتاہی ہو گی، بہت نظریں چرا لی بس اب تو اینٹ کا جواب پتھر سے ہی ہوگا. اور یہ پتھر آخری پتھر ہی ہوگا....

Friday, 7 November 2014

شاید

شاید
         نائیل

زمانے کے فسانوں میں تم بھی تھے شاید
جینے کے بہانوں میں تم بھی تھے شاید

کر لئے تھے سارے جتن تم کو پانے کے شاید
نصیب تھا  کہ قسمت میں تم نہیں تھے شاید

نکلتے تو دیدار کے لئے ہی تھے شاید
لے کر سودا آتے خالی ہاتھ تھے شاید

چاہ میں دوریاں کچھ کم تھی شاید
کہنے کی بس ہمّت نہ تھی شاید

کھڑے تم بھی اسی انتظار میں تھے شاید
مگر ہم ہی جھلے کچھ سمجھ نہ سکے شاید


وقت نے پھر خود ہی لے لی کروٹ شاید
ہم اپنی ہی نظروں میں گرتے گئے شاید

ایسا لگا جیسے اب تم بھی راضی ہو شاید
 مگر عزت کی خاطر چپ ہی کر گئے شاید


ہارے تو ابھی بھی نہیں ہیں بازی شاید
مگر جیتنے کی لگن ہی نہیں رہی شاید

زمانہ تو ہمیں ہی ناکام عاشق کہے گا شاید
بس تم جی لو، ہم بھی جی ہی لیں گے شاید

Sunday, 19 October 2014

یار

یار
         SAd



تھیں حسیں وہ یادیں، تھے حسین وہ خواب 
جن کو ہم دیکھا کرتے تھے ہزار بار

لڑتے تھے پل پل، جگھڑتے تھے بار بار
مناتے تھے پھر سب کو، اکٹھے تھے سب یار

دکھ تھے کچھ کم کم، خوشیاں تھی بے حد
اسی لئے رہتے تھے ہر دم ہم  تیار

سنتے تھے اک دوجے کو، سمجھتے ہر بات
تھے کھیلتے کودتے گزر جاتے دن رات

پر جیسے ہی ہوئے جواں ہم
ہو گئے مصلحتوں کا شکار

فقط چھوٹی سی باتیں تھی اب ناقابل برداشت
غلطی تھی کس کی، نہ جانے کس کی تھی چال


دوستی تھی جو کل تک، دشمنی تھی اب بے باک
بکھرے پتے سب آخر آندھی کے ہی ساتھ

پھر شروع ہوئی کھینچا تانی
لگے کرنے سازشیں بے شمار

اس نے یہ کہا، میں نے یہ سنا، نہیں نہیں وہ تو یہ کہتی تھی
اس پر تم لعنت بھیجو بن کے میرے سچے یار

کل تک جس کے سامنے نظریں نہیں اٹھتی تھیں
پکڑنا تھا اس کا گریبان، لے کر بدلہ ہی ملنا تھا قرار

عزت تو پھر آج رولنی تھی
آخر کب تھی یہ کسی کی میراث

ہوا پھر کہیں سے اک مسیحا نمودار
کہا کسی کو کچھ، چل دیا پھر ہو کر بے اختیار

لگنے لگا کہ دل کی دھڑکن کچھ رک سی گئی
اسے ملنے کی شمع بج جو گئی تھی یار

نہ آیا وہ مسیحا، بیت گئے لمحے ہزار
میرا رب ہی تھا شاید میرا رازدار

ہو کر مجبور ہم خود ہی پہنچ گئے بہت دور
دیکھ کر بھول گیا وہ زمانے کے سب دستور

لگایا گلے سے، رولایا دل سے
بٹھایا آنکھوں میں، ملا وہ بہت شدت سے

معلوم ہوا کہ پہلا قدم ہی اٹھانا تھا  دشوار
بس یونہی کر لی تھی انا سر پر سوار

وہ تو تھا معافی مانگنے کے لئے ہمیشہ سے تیار
کچھ سجن تھے بس بہت ہی ہوشیار

ڈالتے رہے دوستوں میں دراڑ
نہ  سمجھ سکے رویے پراسرار

ٹھانی پھر کبھی نہیں بنے گے کٹھ پتلی
بن کر رہیں گے ہمیشہ کی طرح یار

چاہے کر کے دیکھ لو اب سازیشیں ہزار
 نہیں چھوڑیں گے ہم ساتھ اب کی بار

لڑیں گے اکٹھے، مریں گے اکٹھے
رہیں گے جو اب بن کی سچے یار
 
           اس دنیا بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں جو دو دوستوں کو کبھی اکٹھا نہیں دیکھ سکتے کیونکہ خود ان کا کوئی سچا دوست نہیں ہوتا. اسی لئے وہ جب بھی دو دوستوں کو اکٹھا دیکھتے ہیں تو ان کی جڑیں کاٹنے میں لگ جاتے ہیں. مگر اگر دوست سچے ہو تو ان سازشوں کا ہر وار بے اثر جاتا ہے. اس نظم ایسے ہی ایک واقعے کو موضوع بحث بنایا ہے. امید ہے اپ کو پسند آئے گی.

Saturday, 11 October 2014

ایک طالب علم کی دہائی

ایک طالب علم کی دہائی 

                       (SAd special)



پوچھا کسی نے بیٹا کیا کرتے ہو
آخر کیوں نظروں سے بچتے پھرتے ہو

بولا چچا!! بس یوںہی پڑھائی کے چکر میں خوار ہوں
شاید اسیلئے تو دوسروں کی نظروں کا شکار ہوں

صبح سویرے جو گھر سے نکلتا ہوں
پھر رات گئے جا کر لوٹتا ہوں

راتوں کو جاگ جاگ کر ان کتابوں سے گھولتا ہوں
مستقبل کی خاطر ہی یہ سب کچھ جھیلتا ہوں

تاریک راہوں میں روشنی ڈھونڈتا ہوں
دین اور دنیا دونوں سے دوریا جھیلتا ہوں




 خوشی کے لمحوں سے دور امتحانوں سے الجھتا ہوں
عید، شبرات، شادی و بیاہ سب معذرت سے پیلتا ہوں

عاشقی کے موسم میں فضول نوٹس ڈھونڈتا ہوں
باتوں ہی باتوں میں دنیا کے داؤ پیچ بیلتا ہوں

باپ میرا میری علیم کی خاطر لہوں خرچ کرتا ہے
آخر اسی کے پیسوں سے اپنے خواب دیکھتا ہوں


ہاں پڑھائی کی ہی خاطر تو گھر سے نکلتا ہوں
نہ جانے کیوں اس کی بانہوں میں جھولتا ہوں

ضرورت کو محبت کا نام دے کر
زمانے کے داغ دامن میں سمیٹتا ہوں

بس آخر میں جب بہت تھک جاتا ہوں
ادھر ادھر کے کاموں میں سکون ڈھونڈتا ہوں

کبھی پان، کبھی سگرٹ، اور کبھی چھالیہ
نہ کام بنے تو نشے میں راحت ڈھونڈتا ہوں

آدھی زندگی پڑھائی کے چکر میں 
باقی کچھ بننے میں گزار دیتا ہوں

ایک بات کی مجھے سمجھ نہیں آتی
رب سے ملنے کی تیاری کس وقت پر چھوڑتا ہوں

ضمیر میرا مر چکا ہے شاید
اسی لئے غیرت کو پیسوں میں تولتا ہوں

یہ دنیا اپنے اشاروں پر نچاتی ہے
اور اسی کے اشاروں پر ناچنے کو دوڑتا ہوں

بس اس نظام سے کیا گلا کروں
آخر خود ہی میں خود سے کھیلتا ہوں


اس نظم میں نے ہمارے اعلی تعلیمی نظام پر تھوڑی روشنی ڈالنے کی کوشش کی ہے. میں نے اس میں طالب علموں ک مسائل اور ان کی اندر کی برائیوں کا تذکرو کر نے کی کوشش بھی کی ہے. ہمیں کچھ ایسے چیزوں پر روشی ڈالنے کی ضررورت ہے جو معاشرے کی نظر سے بالاتر ہیں اور مسائل کا حل تلاش کرنا ہے. میری نظر انقلاب مورخہ ٢٨ اگست سے مکمل ہے مگر جب تک یہ دھرنے ختم جاتے میں اس کو پیش نہیں کر سکتا. امید ہے اس نظام میں جو پیغام میں نے دینے کی کوشش کی ہے وہ  سمجھ سکیں.

شکریہ !!! 

Sunday, 28 September 2014

پچھتاوا

پچھتاوا 

                   نائیل



زندگی نے بھی عجب ظلم ڈھائے  
ہمیں خود ہی سب غم دکھائے

ہم نے تو بس اک خوشی کی تمنا کی تھی 
نجانے اس نے کیوں اتنے پڑکھچے اڑائے


کیا ظلم کیا تھا ہم نے دل لگا کر
آخر کیوں بے وفائی کے بادل چھائے 

کونویں میں تو گر ہی گئے تھے شاید
اسی لئے ادھر ادھر کے اتنے چکر لگائے

 پھنس کر رہ گئے تھے ہم تو بیچ میں
نہ تمھیں چھوڑ سکے اور نہ ہی چھوڑ پائے  



تم تھی سماج کی دیواروں میں قید تھی شاید 
پر تم کو تو کیا ہم خود کو بھی نہ چھڑا پائے  

لگا کھونے سے جیت جائیں باقی تو کیا ہے غم 
آخر چھوڑ کر تم کو پھر بھی نہ جیت پائے 

جانتے ہیں کہ چھوڑا تو تم نے ہی تھا
مگر آج پھر ہم خود ہی قصور وار کہلا ئے 

تو کیوں بیتے لمحوں کو یاد کرتا ہے نائیل 
آخر کیوں کر تو ایسے ہی اپنا دل جلائے

Monday, 22 September 2014

کج نئ

کج نئ 

(SAd Special)               























پڑھ پڑھ کے بوڈھے هوئے
لبیا فے وی کج نئ

کھپ کھپ کے ادھے هوئے
ملیا فے وی کج نئ

جگ جگ کے راتاں  لمیاں
لیاں ذہنی تنشناں

نینداں شینداں برباد کیتیاں
کھٹیا فے وی کج نئ


عیداں تے شبراتاں سب ویران کیتیاں
کیتا فے وی کج نئ


راواں تک تک جوان هوئے
گلاں کر کر قربان هوئے

وڈے تو وڈے گراں تکے
تکیا فے وی کج نئ


بس ایویں ادھی زندگی ننگھا چھڈی
کمایا فے وی کج نئ

جداں جداں ودھ دے گئے
 اودھاں اودھاں نوے سیاپے کھل دے گئے

بابے ساڈے گزر دے گئے
چرچے ساڈے ود دے گئے  

کی کھیڈنے سی کھیڈ تماشے
کی جتنے سی کپ سوادے

میدان تے سارے ویران کیتے
جتیا فی وی کج نئ


کس دنیا دے چکر چوں پے گئے آں
ایتھے محنت مشقت دا سلا کج نئ

لے کے کاغذی ڈگریاں ہن کوم دے آں
منتشر مشاقی دا فائدہ کج نئ

ساڈا تے شید قصور تھوڑا سی
ملیا اس نظام توں وی کج نئ

مگر کج نہ کج قصور تے ساڈا وی سی
بغیر منیۓ نتیجہ کڈنا کج نئ

اسی لا چھڈیا تھیان کمائی تے سارا
کم دا ہنر سکھیا بجھیا کج نی

جتھے مقصد سیکھنا سی
اوتھے سکھیا کج نئی

پال لے سپنے وڈے وڈے 
لا لیاں امیداں کھڑیاں نال

جینا شینا چاہنا واھنا کی سی 
جدوں سوچاں کیڑیاں ورغیاں

ملنا کی سی 
کج نئی

ہن وی ٹائم آ جے سمجھ جھائیے
کے کی ساڈی جندڑی کی ساڈے شوق 

کی اسی چاہنے آں تے کی اسی منگنے آں
جے سمجھ جائیے تے چکڑھ مٹی وی کج نئی

امیداں ساریاں اس رب توں رخئیے
شروع کر دئیے منجھ محنت مشقتاں

پل جھائیے باقی بہانے فسانے
ورنہ اگے وی لبھنا کج نئی


میں کافی دنوں سے نظم لکھنے کی کوہشش کر رہا تھا مگر ٹائم نہیں مل رہا تھا اور مسلہ یہ بھی تھا کے میں آن لائن نہی ہو پا رہا تھا. آج سوچا کیوں نہ لکھ ہی دیں. پنجابی میری اتنی خاص نہیں ہے اسی سے آپکو گزارا کرنے پڑے گا. پر یہ میں نے اپنے دل سے لکھی ہے اور مرے جیسے لاکھوں نوجوانوں کی عکاسی کرتی ہے. امید ہے کے آپ اس نظم کے مقصد کو سمجھ سکیں.

شکریہ!