Monday, 23 March 2015

اڑنے دو

اڑنے دو

                                                         (SAd Special)





اڑنے دو، اڑنے دو
مت چھینو ان سے آزادی
خوشی سے ذرا کھل کر جینے دو
اڑنے دو، اڑنے دو

آسمان کی بلندی کو چھونا ہے اک فن
فن میں ہے مہارت محنت کے سنگ
اس محنت سے ذرا گلے ملنے دو
ملنے دو، اڑنے دو، اڑنے دو

لہوں ہے انکا کچھ زیادہ ہی گرم
جوش مارتا ہے پہن کر کفن
لڑنے کو ہیں تیار بس مواقعے ہے کٹھن
مواقعے دو، اڑنے دو، اڑنے دو

گر جائیں تو کیا ہے غم
لٹ جائیں تو کیا ہے ستم
لے کر پرواز خود سے دنیا گھومنے دو
گھومنے دو، اڑنے دو، اڑنے دو

ہے یہ زمانہ کچھ سیکھنے سکھانے کا
امیدوں کے ساغر میں ڈبکی لگانے کا
جدت سے زمانے کو اک نئی سمت میں ڈھلنے دو
ڈھلنے دو، اڑنے دو، اڑنے دو

اک دفعہ جو الله کا نام لیکر بھر لی اڑان
پھر چاہے شکاری بھی روک کر دیکھ لے پروان
دیکھ لیں گے سب کو بس ذرا پھلنے پھولنے تو دو
پھلنے پھولنے تو دو، اڑنےدو، اڑنے دو

ہمارے جوان ہیں تقسیم مختلف قوموں میں
قید ہیں فرقہ پرستی کی زنجیروں میں
کرو تم ان کو آزاد اور کھل کر جھومنے دو
جھومنے دو، اڑنے دو، اڑنے دو

یہ دھرتی ہے گھیری لاکھوں مشکلوں میں
مانگتی ہے امن قید ہو کر زنجیروں میں
مغرب کی تدبیروں سے بھی ذرا نمٹنے دو
نمٹنے دو، اڑنے دو، اڑنے دو

تعمیر وطن ہے ان شاہینوں کی امنگ
آجائیں جو رت میں آجائیں تو دیکھا دیں گے ڈھنگ
قومی جذبے سے ہیں شرشار ذرا حوصلہ تو دو
حوصلہ دو، اڑنے دو، اڑنے دو

دین کے ہیں محافظ یہی جوان
چڑھاینگے اسلام یہی پروان
اسلام کی سربلندی کا بیڑا اپنے ہاتھوں میں تھامنے دو
تھامنے دو، اڑنے دو، اڑنے دو


عشق محبت کے فلسفے سے رکھو دور
سکھاؤ انکو گھر گھرستی کے اصول
ڈال کر تھوڑا گھر کا بوجھ انہیں پنپنے دو
پنپنے دو، اڑنے دو، اڑنے دو

ڈوب رہے ہیں یہ دنیا میں
کھب رہے ہیں یہ مستی میں
جگانے کا وقت آگیا ہے، انہیں تم جاگنے دو
جاگنے دو، اڑنے دو، اڑنے دو

آخر کب تک کوسیں گے اپنے حالات
کب تک رہیں گے یہ دہنگے فساد
کچھ کرنے کی چاہ ہے تو کر گزرنے دو 
کر گزرنے دو، اڑنے دو، اڑنے دو

بنانے تو دو تھوڑا ارادہ
 جٹانے تو دو ذرا سی ہمت
 بس مقصد کی خاطر یکجا ہونے دو
یکجا ہونے دو، اڑنے دو، اڑنے دو



پتا نہیں کیوں میں اس کو ابھی تک مکمل نہی کر سکا. یہ کوئی چار پانچ مہینے سے مکمل کرنے کی کوہشش کر رہا ہوں مگے نہیں کر پا رہا. مینے تو اس نظم کو اپنی طرف سے پندرہ منٹ میں لکھنا تھا مگر پھر جب اس کا نقشہ سامنے آیا تو لگا کہ یہ تو میری سوچ سے بہت اپر ہے. خیر! اب یہ آپ کے سامنے ہے. امید ہے آپ کو اس نظام کا مقصد سمجھ آجائے.....

Tuesday, 10 March 2015

عکس

عکس
                     نائیل 




جب بھی اسے ڈھونڈا
میں ڈھونڈتا ہی رہ گیا

جب بھی اسے مانگا 
میں مانگتا ہی رہ گیا

جب بھی اسکا نام لیا
میں رشک کرتا ہی رہ گیا


جب بھی اسکا خواب دکھا
میں تعبیر پوچھتا ہی رہ گیا

جب بھی اسکی دہلیز سے گزرا
میں بس دروازہ تکتا ہی رہ گیا

جب بھی اسکا حال پوچھا 
میں شکر ادا کرتا ہی رہ گیا

جب بھی اس کا خیال آیا
 میں اسی خیال میں کھویا رہ گیا 

جب بھی اسکو سمجھنا چاہا
میں اسی میں الجھا رہ گیا

جب بھی اسکے بنا جینا چاہا
میں تنہا جیتا ہی رہ گیا

جب بھی اسکو بھولنا چاہا
میں خود سے شرمندہ ہوتا ہی رہ گیا

جب بھی اسکا قصّہ مکمل کرنا چاہا
اس کے عکس کو تلاش کرتا ہی رہ گیا