Saturday, 14 August 2021

قریب آؤ

قریب آؤ 
    نائیل                              




آؤ سجن میرے قریب آؤ 
مجھے گلے سے لگاؤ مجھے اپنا بناؤ 
کرو ہزار گلے چاہے ڈانٹ دو مجھے 
مگر نہ جاؤ مجھ سے دور نہ جاؤ 
میری تشنگی سمجھو میرے قریب آؤ 
مجھے گلے سے لگاؤ مجھے اپنا بناؤ 
میرے پاس کیا ہے اک تمھارے سوا 
جو تم بھی روٹھ گئے مجھے تنہا چھوڑ گئے 
تو کون مجھے اپنائے گا اپنا بنائے گا 
اپنا بنا بھی لے تو کیسے تمہاری طرح چاہے گا 
نہ جاؤ دور نہ جاؤ میرے قریب آؤ 
مجھے گلے سے لگاؤ مجھے اپنا بناؤ 
چلو اک پل کیلئے مان لیا ہم لاکھ برے ہیں 
تمھیں ذرا نہیں بھاتے تمھیں ستاتے ہیں 
فقط اسی وجہ سے تم نے ہمیں چھوڑ دیا 
کسی اور کو پا لیا اپنا بھی بنا لیا 
مگر ہماری یاد تو پھر بھی آئے گی 
بہت ستائے گی رات بھر جگائے گی 
تو پھر کیا کرو گے کس کو بلاؤ گے 
حال دل کس طرح چھپاؤ گے 
اپنا دکھڑا کس کو سناؤ گے 
ہمیں کیسے بھول پاؤ گے 
صنم اتنا پچھتاؤ گے تو کیسے جی پاؤ گے 
لوٹ کر ہمارے پاس ہی واپس آؤ گے 
جب لوٹنا ہی ہے تو لوٹ آؤ میرے قریب آؤ 
مجھے گلے سے لگاؤ مجھے اپنا بناؤ 


Monday, 10 August 2020

منتظر

منتظر 
نائیل          


منتظر ہوں تو وجہ کیوں پوچھتے ہو 
انتظار ہے جس کا وہ تم تو نہیں 



Thursday, 4 June 2020

Hold onto

Hold Onto
                 SAd



I don't know why
But I want to hold onto
Hold onto your memory
Your memory of being with me
Just be with me          
Be in that exact moment
Just be with me
Smiling with me
Quarreling with me
Connecting with me
Resolving with me
Aspiring with me
Shining with me
Gasping with me
Rising with me
Confessing with me
Being in love with me
Being in love only with me
Splitting with me
Falling with me
Sinking with me
Acquainting with me
Cheering with me
And that one last time
Failing with me

Sunday, 31 May 2020

خطا ہوگئی

خطا ہوگئی
              نائیل




ہم تمھارے شہر میں تھے
کہ  تمہارا گمان ہوا
تمہارا گمان ہوا
یہ جانتےہوئے بھی کہ
اب تم میرے نہیں ہو
کسی اور کے ہو چکے ہو
آج سے نہیں، کچھ لمحوں سے نہیں
برسوں سے کسی اور کے ہو چکے ہو
مگر پھر بھی تمہارا گمان ہوا
سارا شہر روشنیوں سے جگمگا رہا تھا
زندگی کی نوید سنا رہا تھا
اور ہم تمہارا گمان کر بیٹھے
دیکھو کیسی خطا ہو گئی
غلطی سے دعا مانگ بیٹھے
دعا میں تمھیں مانگ بیٹھے
زندگی میں پہلی بار تمہارا نام لے کر
تمھیں مانگ بیٹھے
یہ جاننے بوجھنے کے باوجود کہ
اب تم کسی اور کے ہو چکے ہو
ہم تمھیں مانگ بیٹھے
دیکھو کیسی خطا ہوگئی
تمھارے لئے خوشیاں مانگتے مانگتے
تباہی مانگ بیٹھے
اب کیا کریں، کسی سے کیا کہیں
جب خود جانتے بوجھتے
ایسی خطا کر بیٹھے
عاشقی کا دعوہ کرتے تھے
عشق کو ہی داغ لگا بیٹھے

Wednesday, 18 March 2020

سالوں بیت گئے

سالہسال  بیت گئے

نائیل                                  


سالہسال بیت گئے اس دن کو
جس دن تم نے ہم سے
پہلی بار
چاہت کا سوال کیا تھا
اور ہم تو پہلے سے ہی
اسی کشمکش کا شکار تھے
کہ تم سے سوال کریں یا نہ کریں
اپنی چاہت کا اظہار کریں یا نہ کریں
تم پر اعتبار کریں یا نہ کریں
اپنی زندگی جئیں یا پھر تمھیں چننے 
ہم سے غلطی ہو گئی
ہم نے تمھیں چن لیا
دل و جان سے اپنا مان لیا
کیا ہی برا فیصلہ کیا
تمہارا ساتھ چھوٹ گیا
نہ پھر تم کبھی مل سکی
نہ پھر ہم کبھی سمبھل سکے
سالہسال بیت گئے
ہم در بدر بھٹکتے رہے
کوئی سہارا نہ مل سکا
کوئی کوچہ کوئی کنارہ نہ بن سکا
اور ہم ہمیشہ تمھیں یاد کرتے رہے
تاریک گلیوں میں تلاش کرتے رہے
شاید تم کبھی تھی ہی نہیں
تھی تو پھر کوئی کلپنا تھی
نہیں تو پھر کوئی سپنا تھی
جو آنکھ کھولتے ہی ٹوٹ گیا
نجانے اسی الجھن میں
کتنے ہی سال بیت گئے
مگر آج بھی تمھیں یاد کرتے ہیں
سارا دن ساری رات تمہارا انتظار کرتے ہیں
ٹھیک اسی جگہ جہاں تم پہلی بار ملی تھی
ٹھیک اسی جگہ جہاں پھر آخری ملاقات ہوئی تھی
مگر اب یقین سا ہو چلا ہے
کہ تم پھر کبھی نہ ملو گی
ہم پھر کبھی نہ بچھڑیں گے
اور یہ دل پھر کبھی نہ ٹوٹے گا

Thursday, 5 December 2019

قبول ہے

قبول ہے
                          نائیل 

کل ان سے اک آخری ناتا بھی ٹوٹ گیا
ساتھ لمحے بھر کا مدتوں کیلئے چھوٹ گیا

اب چاہے جو بھی ہو فیصلہ
قبول ہے، قبول ہے، قبول ہے

ہمیں ان کے بنا بھی جینا
منظور ہے، منظور ہے، منظور ہے

Tuesday, 29 October 2019

مسکراتے رہتے ہیں

مسکراتے رہتے ہیں
                                 نائیل 



بڑے بوڑھوں سے سنا تھا
جنہیں عشق کا روگ لگ جائے 
وہ اکثر مسکراتے رہتے ہیں
غم اپنا چھپاتے رہتے ہیں
ہم بھی کچھ دنوں سے
بلا وجہ مسکراتے رہتے ہیں
شاید عشق کے روگی ہیں
جو غم اپنا چھپاتے رہتے ہیں

Thursday, 17 October 2019

مدعا

مدعا

                      SAd



کسی اجنبی کے رخسار پر
ٹکی تھی نظر
مگر خیال ان کا تھا
برا حال جن کا تھا

ناراضگی واضح تھی
کچھ بھلا کیسے پوچھتے 
جب سوال بھی ان کا تھا
جواب بھی ان کا تھا

کٹہرے میں تو ہم کھڑے ہوگئے
مگر سزا سے کیسے بچتے
جب مدعا بھی ان کا تھا
منصف بھی ان کا تھا

Tuesday, 8 October 2019

قبیح

قبیح

             نائیل


میری دعا ہو تم، میری التجا ہو تم
میرے بے چین دل کی فریاد ہو تم

پر میں کیا کہوں، میں کیا کروں
جب تم میرے نصیب میں نہیں

میں آنسو بہاؤں، بلا وجہ شور کروں
میرا ظرف ابھی اتنا حقیر نہیں

میرا دل اب میرا مطیع نہیں
شاید میرا غم اتنا قبیح نہیں

Saturday, 21 September 2019

داروغہ صاحب

داروغہ صاحب
                               SAd




شہر میں جینا ہے تو
سر جھکا کر چلنا پڑے گا صاحب
اگر سر اٹھا کر چلے تو
داروغہ صاحب بھڑک جائیں گے

Saturday, 3 August 2019

وفا

وفا
               نائیل 



وہ روز پوچھتے ہیں کہ
لکھتے کیوں نہیں ہو آج کل

انہیں کیا بتائیں کہ
ان کے بنا ہم لکھنا ہی بھول گئے ہیں

 سارا دن ان کو یاد کرتے کرتے
ان کے بنا جینا بھی بھول گئے ہیں

ان کے ذات میں اتنا مگن ہیں کہ
واپسی کا رستہ ہی بھول گئے ہیں

جب سے ان سے دل لگایا ہے تو
ہم وفا کا مطلب بھی بھول گئے ہیں 

Saturday, 13 July 2019

سمت

سمت
                       SAd



جب پر پھیلانے سے پہلے ہی پر کٹ جائیں
تو پرندہ پھڑ پھڑا تو سکتا ہے، کبھی اڑھ نہیں سکتا

جب کسی سے دل لگانے سے پہلے ہی زخمی ہو جائے
تو دل بہک تو سکتا ہے، کبھی دھڑک نہیں سکتا

جب اقرار سے پہلے ہی جنون طاری ہو جائے
تو یار کو بھلایا تو جا سکتا ہے، کبھی پایا نہیں جا سکتا

اور جب محبت، عقیدت اور عبادت کی سمت ہی بھٹک جائے
تو رب کو پکارا تو جا سکتا ہے، کبھی منایا نہیں جا سکتا

Sunday, 12 May 2019

مسئلہ

مسئلہ
                      SAd



لوکو سنو میں کش کہنا چاندا سی
پر میکو کش وی کیا نی جاندا

میرا دکھڑا سرے توں کش ہور سی
میں اوئیں عشق تے الزام ترھی جاندا 

میرا سینہ کدوں دا چھلنی سی
میں لوکاں نوں ہس ہس وکھائی جاندا

میں اکھاں وچوں انجوں کڈ دا ںئی
پر میرا دل دھاڑا مار مار روئی جاندا

میکو پوچھو میرا مسئلہ کی...
میں کیوں دیوے بال بال بجھجائی جاندا