Saturday, 24 September 2016

مقابلہ

مقابلہ

                     نائیل





جب تو ایک تھی
تو لاکھوں میں ایک تھی
مگر اب چاہے ہزار ہوں
تجھ ایک کا مقابلہ نہیں کر سکتیں

Saturday, 17 September 2016

تمنا

تمنا

                   SAd


تمنا تمنا ہی رہ گئی
آرزو ندیہ میں بہ گئی

جب اس کی اداسی دکھی
تو نظر وہیں ٹھہر گئی

نظر سے نظر کیا ملی
عقل وہیں بہک گئی

بات سے بات چلی تو
شام وہیں مہک گئی

گھڑی دو گھڑی شام ڈھلی تو
جان وہیں بہل گئی

پھر ملاقات سے ملاقات کیا بڑھی تو
جوانی وہیں سہل گئی

ساںس سے ساںس کیا ملی
دیوانگی وہیں سحر گئی

جب تلک آنکھ کھلی تو
آبرو وہیں دھک گئی

پس نظریں چرا کر
ادھر ادھر بھٹکنے لگا

فقط خود ہی خود کو
خودی میں مگن رکھنے لگا

اور وہ بیچاری جانی انجانی
کبھی کچھ سمجھ نہ سکی

آخر کیا غلطی کی
جو ملامت بھی نہ کر سکی

سوچتی سوچتی
ذرا بھی تسلی نہ کر سکی

فقط قلم اٹھاتے ہی
حال دل بیاں نہ کرسکی

لاکھ تدبیریں کیں مگر
چٹھی رقیب تک پہنچ نہ سکی

شاید اسی لئے زندگی کی گاڑی
کبھی آگے بڑھ ہی نہ سکی

محبت جو کبھی پنپنی تھی
سرے سے پنپ ہی نہ سکی


Wednesday, 7 September 2016

Attractive

Attractive
By SAd



Damn attractive
Looks distractive
Is she effective?
Probably like a detective
Just a little directive
Never seems to be deceptive
Her routine might be defective
But she’s not captive
Nonetheless a complete festive
Difficult to comprehend but digestive
May be sometimes artificially too ejective
With fair trail too much receptive
And don’t believe her, she’s not subjective
To be precise innovative, and objective
Loving, caring, and respective
Considers everyone’s perspective
Oh SAd! You really were a close prospective
And she was! She was curiously perceptive
As lively as an adjective
But how can she be so retentive
May be you weren’t that reflective
Strangely far too protective
And the defeat!!!
It was never meant to be preventive
Now!!! Whether the itching still active or inactive
The retrieval looks rather proactive



So long...

Thursday, 28 July 2016

سرمئی کتاب اور گلابی گلاب

 سرمئی کتاب اور گلابی گلاب

                   (SAd)

   


سرمئی کتاب اور گلابی گلاب 
بھلا دونوں کا کیا تعلّق ہے 
مگر وہ پھر بھی 
اس گلابی گلاب کو
اس سرمئی کتاب کے 
صفحہ نمبر ١٤١ میں چھپاتی تھی 
اکثر شام کی چائے پیتے پیتے 
وہی کتاب اٹھاتی 
سینے سے لگا کر 
سانسوں کے قریب لے جاتی 
نجانے کس کی خوشبو تھی 
جو روح میں سما جاتی  
کبھی کبھی جب آنکھیں نم ہو جاتیں 
تو اکثر 
اسی سرمئی کتاب کا 
صفحہ نمبر ١٤١ کھولتی
گھنٹوں دیکھتی رہتی  
اور پھر بڑی احتیاط سے 
اس گلابی گلاب کو اٹھا کر 
سہلاتی رہتی تھی 
جی اپنا بہلایا کرتی 
مگر 
انتظار تھا جو کبھی کم نہ ہوتا  
کوئی تھا جو کبھی سنگ نہ ہوتا 
اکثر رات کو 
جب کروٹیں لیتے لیتے تھک جاتی 
تو اپنے سرتاج سے 
چھپتی چھپاتی 
اکثر ٹی وی لاؤنج میں جاتی 
سامنے شیلف پر پڑی 
وہی سرمئی کتاب اٹھاتے اٹھاتے 
گلابی گلاب گرا دیتی 
گلاب گرتا دیکھ کر 
اسکی آنکھ بھر آتی 
مانو پل بھر کے لئے سانس رک سی جاتی 
پھر بڑی احتیاط سے 
اس گلابی گلاب کو سمیٹنے لگ جاتی 
پھر اس گلابی گلاب کو میز پر رکھ کر 
اس سرمئی کتاب کو اٹھاتی 
پھر صفحہ نمبر ١٤١ کھول کر دیکھتی  
بیش بہا آنسو بہاتی 
ایک تصویر ہی تو تھی اس میں 
جس کو دیکھنے کی خاطر 
وہ ساری حکایات دہراتی تھی 
میرا لاڈلا بچہ ہے 
مجھے میری جان سے بھی  زیادہ پیارا ہے 
تڑیاں لگا لگا کر
دنیا بھر کو بتاتی تھی 
ہنستا کھیلتا دیکھ کر 
مسکرایا کرتی تھی 
مگر اس دن صبح کو 
وہ اک گلابی گلاب لئے 
جب اپنی ماں کے پاس آیا 
ہاتھ میں گلاب تھماتے ہی معصوم بولا 
ماما اس گلاب کو ہمیشہ اپنے پاس رکھیں گی ناں 
میں ہوں نہ ہوں اس کو سینے سے لگائی رکھیں کی ناں  
مجھے ہمیشہ اپنی یادوں میں یاد رکھیں ہی ناں  
بھول کر بھی نہ بھولیں گی ناں 
بیچاری انجان تھی 
کچھ سمجھ ہی نہ پائی 
ایسے ہی دانٹ دیا 
پوچھا بھی نہیں کیوں تمھیں کیا ہو جائے گا 
اگر پتا ہوتا تو شاید روک ہی لیتی 
سکول جانے ہی نہ دیتی 
آخر کیا گناہ کیا تھا 
جو ایسی سزا مل گئی 
ننھی سی جان مسکراہٹ لئے 
جب سکول چلی گئی 
نجانے کیوں دل گھبرانے لگ گیا 
رہ رہ کر وہ یاد آنے لگا 
ایسے لگا کچھ برا ہوگیا 
وہ ہمیشہ کے لئے دور چلا گیا 
اسی کشمکش میں آنکھ لگ گئی 
پھر شام ہوئی ایمبولنس کی آواز سے آنکھ کھلی 
ایمبولینس کی آواز تھی ہی ایسی 
پریشانی اور بڑھ گئی 
اور پھر جب لال کی لاش دیکھی 
تو جذبات قابو میں رکھ نہ سکی 
دھاڑیں مار مار رونے لگی 
آخر سکول ہی تو گیا تھا 
ایسا کیا ظلم کر دیا 
کہ کسی ظالم نے اس کی جاں لے لی 
خون کی ہولی کھیل کر 
درجنوں ماؤں کی جنت چھین لی 
خود کی آخرت بھی خراب کی 
اور ماؤں کی آہ بھی ساتھ لی 
ننھی جانیں ابدی نیند سلا دیں   
اور اپنی جان بھی ساتھ گنوا دی 
خیر اب تو بس 
گلابی گلاب ہے 
اور سرمئی کتاب 
مگر مجھے پھر بھی 
ایک بات سمجھ نہیں اتی 
سرمئی کتاب اور گلابی گلاب 
بھلا دونوں کا کیا تعلّق ہے 



Dedicated to Army Public School Peshawar Students,teachers and their Parents...



Friday, 15 July 2016

راضی

راضی

                        نائیل




عرضی بھی اس کی تھی
مرضی بھی اس کی ہے

ہم تو تب بھی راضی تھے
ہم تو اب بھی راضی ہیں

Friday, 24 June 2016

پھر کیوں؟؟؟

پھر کیوں؟؟؟ 

                               اسپیشل SAd



خودی میں جیتا ہوں
خودی میں مرتا ہوں

یارب! کیا میں تجھ سے
واقعی میں ڈرتا ہوں؟؟؟

نمازیں بھی پڑھتا ہوں
گناہ بھی کرتا ہوں

سجدے میں بھی جھکتا ہوں
حق بھی منگتا ہوں

پھر کیوں؟؟؟ پھر کیوں؟؟؟
دوسروں کے حقوق سلب کرتا ہوں

یارب! کیا میں تجھ سے
واقعی میں ڈرتا ہوں؟؟؟

بغض بھی رکھتا ہوں
حسد بھی کرتا ہوں

دل بھی دکھاتا ہوں
آگ بھی لگاتا ہوں

پھر کیوں؟؟ پھر کیوں؟؟؟
حاسد سے پناہ بھی منگتا ہوں

یارب! کیا میں تجھ سے
واقعی میں ڈرتا ہوں؟؟؟


صبح کو اٹھتا ہوں
دفتر بھی جاتا ہوں

کام سے چڑتا ہوں
مشقت سے ڈرتا ہوں

پھر کیوں؟؟؟ پھر کیوں؟؟؟
 صلہ میں آسائشیں منگتا ہوں

یارب! کیا میں تجھ سے
واقعی میں ڈرتا ہوں؟؟؟؟

قرآن بھی پڑھتا ہوں
حدیث بھی سنتا ہوں

خلقت کو ادنیٰ سمجھتا ہوں
خود اخلاق سے گرتا ہوں

پھر کیوں؟؟؟ پھر کیوں؟؟؟
بدلے میں عزت منگتا ہوں

یارب! کیا میں تجھ سے
واقعی میں ڈرتا ہوں؟؟؟

روزے  بھی رکھتا ہوں
راتیں بھی جگتا ہوں

حج کو بھی جاتا ہوں
استطاعت بھی رکھتا ہوں

پھر کیوں؟؟؟ پھر کیوں؟؟؟
زکات میں چوری فرض سمجھتا ہوں

یارب! کیا میں تجھ سے
واقعی میں ڈرتا ہوں؟؟؟

سادی سی زندگی ہے
اس میں نہ کوئی تنگی ہے

نوکری بھی لگی ہے
قسمت بھی دھنی ہے

پھر کیوں؟؟؟ پھر کیوں؟؟؟
ہر ہر خواہش پر جیتا مرتا ہوں

یارب! کیا میں تجھ سے
واقعی میں ڈرتا ہوں؟؟؟

یہ دنیا تو فانی ہے
اک دن مٹ جانی ہے

اک دن سب نے جان گنوانی ہیں
رب کے سامنے حاضری لگانی ہے

اور رب تو عالی ہے
رحمت اس نے دکھانی ہے

جس نے بھی کہا کہ کوئی رب نہیں اس کے سوا
اس کی مغفرت فرمانی ہے

پھرکیوں؟؟؟ پھر کیوں؟؟؟
کسی نے دنیا اور آخرت دونوں گنوانی ہے

سن اے انسان تو!!!
سن لے ذرا تو

خودی میں نہ جیا کر تو
خودی میں نہ مرا کر تو

رب سے ناتا جوڑ لے تو
بات یہی سیانی ہے

اسی رب کو یاد کیا کر کیا کر تو
اسی نے مغفرت فرمانی ہے

اس میں بھلا کیا پریشانی ہے
بس آسانی ہی آسانی ہے

بس اتنی سی کہانی ہے
قبر میں رات بتانی ہے

پھر کس کی مدد آنی ہے
رب نے ہی بگھڑی بنانی ہے

اسی کے ہاتھ میں ہی ناکامی ہے
اس کے سنگ ہی کامرانی ہے

گر یہ تبلیغ تو چلتی جانی ہے
مگر تجھ کو کب سمجھ آنی ہے؟؟؟؟


آخر کیوں ہم یہ بات نہیں سمجھتے کہ یہ دنیا فانی ہے. یہ زندگی اور اس کی تمام آسائشیں فانی ہے. یہ سب کچھ ایک دن ختم ہو جائے گا اور سب لوگ الله کے حضور پیش ہوں گے اور وہاں ہی سزا اور جزا کا فیصلہ کیا جائے گا. اسلئے میرے بھائیو!!! اپنی سمت سہی کرو اور الله کا ڈر دل میں بسا لو پھر دیکھنا وہ کیسے بگھڑی بناتا ہے اور دنیا اور آخرت میں کامیابی سے نوازتا ہے.......

Saturday, 18 June 2016

فروری کی پندھرویں برسات

فروری کی پندھرویں برسات
                                       نائیل 





نہ وہ نومبر کی پہلی شام تھی
نہ وہ دسمبر کی آخری رات تھی

نہ ہی وہ جنوری کی کوئی ساعت تھی 
ہاں مگر وہ فروری کی پندھرویں برسات تھی

جب ہم تم سے اور تم ہم سے بچھڑے تھے
ایسے جیسے اک ٹہنی کے دو پتے بکھرے تھے

گل گلستان سے اجھڑے  تھے
خواب ہمارے بکھرے تھے

انتظار! انتظار! انتظار!
اب تو بس انتظار ہے

جھاڑے کے موسم کے گزرنے کا انتظار ہے
گھڑی کی ٹک ٹک کے رکنے کا انتظار ہے

 اب تو بس ہمارے ملن کا انتظار ہے
وقت کے یکسر بدلنے کا انتظار ہے

انتظار! انتظار! انتظار!
اب تو بس انتظار ہے

Friday, 27 May 2016

غریب

غریب
                          SAd




ہاں میں غریب ہوں
خواہشوں کا مطیع ہوں

آسائشوں سے فصیح ہوں
مگر لذتوں کا صبیح  ہوں

محفلوں کا امیر ہوں
مگر حماقتوں کا جریر ہوں

گمان سے شفیع ہوں
مگر اخلاق سے قبیح ہوں

بظاہر تو میں مسیح ہوں
مگر باطن میں حقیر ہوں

ہمیشہ موقع کی تلاش میں رہتا ہوں
جہاں موقع مل جائے وہیں سب کا پیر ہوں

شاید اسی لئے دنیا میں تو رفیع ہوں
مگر حقیقت میں ایک مریض ہوں

کہنے کو تو طالب بقیع ہوں
مگر!!! مگر!!! میں تو باغئ  سمیع ہوں 

ہاں میں غریب ہوں
خواہشوں کا مطیع ہوں


*مفہوم الفاظ*
*مطیع ----- طابع ، فرمانبردار، غلام
* فصیح ---- یہاں مالا مال کے طور پر استعمال ہوا ہے
* جریر ---- دلیر، بہادر
*قبیح ---- بد، برا
*صبیح --- ادھر طلبگار کے طور پر استعمال ہوا ہے
*رفیع ---  کامیاب، بلند، ترقی یافتہ
*بقیع --- جہن بہت زیادہ درخت ہوں، جنت سے
*سمیع--- سننے والا، الله کا نام

Wednesday, 25 May 2016

The Fear

The Fear

                        SAd




The fear of dying
Dying from inside
Why it keeps haunting
The fear of losing
Losing someone very special
Why it keeps hurting
The fear of being alone
Alone in the dark
Why it keeps trembling
and
The fear of being unworthy
undesired
Why it keeps accumulating
When in reality
Life never stops
It goes on
The pendulum of the clock
Never stops
It Goes
On and on
Tick tock Tick Tock
Until those strange fears
The fears of becoming unknown
Becomes the reality
The very soul
That once matted
Matter no more

Matter no more

Friday, 13 May 2016

دل لگی

دل لگی

                      نائیل



وہ بولے:-
 جناب! آپ کی تو دل لگی تھی

ہم بولے:-
پھر دل پر کیوں لگی تھی؟

وہ بولے:-
جو بھی تھا مگر عشق نہیں تھا

ہم بولے:-
مگر وہ مرید بھی نہیں تھا

جو بھی تھا حسیں بہت تھا
اس کا نہ ہونا غمگیں بہت تھا

جب وہ تھا مانو ایسے تھا جیسے
میں ابھی اسی وقت سب کچھ وار دوں گا

اپنے سب غم، سب پریشانیاں
اک جھٹکے میں بھلا دوں گا

بس اس کو سنوں گا اور سنتا چلا جاؤں گا
وقت کے سب پیمانے یکسر گھما دوں گا

اس کو اتنا پیار دوں گا
کہ روٹھنا تک بھلا دوں گا

مگر کیا بتاؤں کہ میں خود ہی بیوفا نکلا
میں خود اپنے ہی درد میں مبتلا نکلا

جب اس کو میری ضرورت پڑی
میں ہی دنیا سے بیزار نکلا

مگر ابھی بھی امید کا دامن تو اب بھی نہیں چھوڑا
اک خواہش نے ناتا اب بھی نہیں توڑا

اک خواہش کہ کاش وہ راضی ہو جائے
اور وہ دل پر لگی پھر سے مان جائے

سب کچھ جیسا تھا ویسا ہی ہو جائے
وہ میرا ہنسنا وہ میرا کھیلنا سب لوٹ آئے

بس ایک بار اس کا جینا مرنا میرے سنگ ہو جائے
تنے تنہا یوں جینا بصم ہو جائے

اس کا ملنا ایک رسم ہو جائے
پھر چاہے آنکھ کا کھلنا بند ہو جائے

Friday, 6 May 2016

صیاد

صیاد  

                       نائیل 



دیدار صنم سے لیکر
دیدار یار تک
صیاد بیٹھے ہیں
تیار بیٹھے ہیں

بندوکیں اٹھائے
آستینیں چڑھائے
کرنے کو شکار
بلا عذر بے اختیار بیٹھے ہیں


دیدار صنم سے لیکر
دیدار یار تک
صیاد بیٹھے ہیں
تیار بیٹھے ہیں



آپ لوگوں کی پرزور فرمائش پر چھوٹی سی ننھی منھی سے غزل.....

Sunday, 24 April 2016

کفن بننے کا کاروبار

کفن بننے کا کاروبار

                        SAd



تپتی دھوپ میں چھاؤں جیسے
سلگتی ریت میں برکھا ویسے
دہکتے انگاروں سے آنسؤ ٹپکے
کھلتی کلیوں سے دھرتی لرزے
ڈھلتی عمر میں جوانی چھلکے
مہکتی فضا میں خوشبو برسے
کیسے کیسے دنیا انساں پرکھے
بات بات پر کاٹنے کو ترسے
شاید ہم اندھے گونگے بہرے ہیں
اسی لئے داغ الفت سہتے ہیں
گر جینے مرنے کی دھن میں رہتے ہیں
زندگی میں خودی ویرانی چنتے ہیں
پھر کچھ  بڑے بڑے بول بولتے ہیں
بلا وجہ خود ہی خودی میں جیتے ہیں
کہتے ہیں تو سہی ہی کہتے ہیں
مگر اپنی ہی رت میں جیتے ہیں
سننا چاہیں تو کچھ اور ہی سنتے ہیں
اور سمجھنے میں چپ ہی رہتے ہیں
شاید اسیلئے نظام زندگی جیسا چلتا ہے چلنے دو
ننھی سی جان کو اپنی موت آپ مرنے دو
ہمیں خواب غفلت سے مت جگاؤ
ہم گہری نیند میں ہیں ہمیں سونے دو
ہمارا کفن بننے کا کاروبار ہے
ہم کو کفن بننا ہے ہم کو کفن بننے دو

Saturday, 16 April 2016

وعظ اخلاق

وعظ اخلاق

                                   (SAd Special)




تہذیب و تمدن کا دستور ہے اخلاق
جیون کا حصول ہے اخلاق

بچپن کا پہلا درس ہے اخلاق
بڑھاپے کا مسکن ہے اخلاق

رؤسا کا افق ہے اخلاق
فقراء کا حسن ہے اخلاق

صابر کی صفت ہے اخلاق
منصف کی زد ہے اخلاق

حکومت کا طرز ہے اخلاق
دشمن پر کالی ضرب ہے اخلاق

زندگی کا قرب ہے اخلاق
موت کا ضبط ہے اخلاق

اسوۂ حسنہ کا حاصل ہے اخلاق
بندگی کی حمد ہے اخلاق

گویا انسان کی سیرت ہے اخلاق
نہیں تو جانور کی نسبت ہے اخلاق


انسنیت کا نام ہے اخلاق
کامیابی کا راز ہے اخلاق

کتابوں سے بھرے ہیں افکار
جینے کا سلیقہ ہے اخلاق

غلط سہی کا فرق ہے اخلاق
عزت ذلّت کا ظرف ہے اخلاق

مسائل کا حل ہے اخلاق
مصائب پر ضرب ہے اخلاق

دلیری کا رمز ہے اخلاق
فسادی پر غضب ہے اخلاق

 آؤ سب مل کر عہد کریں
کہ بلند کریں گے وعظ اخلاق

پہلے خود سیکھیں گے اخلاق
پھر سیکھائیں گے دنیا کو اخلاق

 پڑھائیں گے نئی نسل کو باب اخلاق
سیکھو، سمجھو اور سکھاؤ اخلاق!!

جہاں بداخلاق کا نہ کوئی ساتھی نہ ہم ساز
وہیں سب سے بہتر وہ ہے جسکا بلند ہے اخلاق

گر بھرتے جائیں گے صفحے آج
مگر ختم نہیں ہوگا یہ وعظ اخلاق



کافی دن ہو گئے تھے SAd# نے آپ کو مخاطب نہیں کیا اور نائیل نے عشق معشوقی کی رٹ لگائی رکھی مگر آج پھر اس کو جاگ آ ہی گئی ہے اور آپ کی خدمت میں کچھ عرض کر رہا ہے اگر آپ کو پیغام سمجھ آجائے تو دسروں تک بھی ضرور پہنچایئے گا شاید کسی اور کا بھی بھلا ہو جائے. اجازت طلب کرنے سے پہلے ایک بات ضرور کہوں گا کہ ہماری قوم اخلاقی پستی کا شکار ہے اور ہم لوگوں میں برداشت نہ ہونے کے برابر ہے. ہم لوگ دسروں پر تو انگلیاں اٹھاتے ہیں مگر اپنے گریبان میں نہیں جھانکتے. اگر ہم اپنی اصلاح شروع کر دیں تو ہماری عوام جس تبدیلی کے انتظار میں ہے وہ آجاۓ گی. بس یہ بات بھی ذہن میں بیٹھا لیں کہ اگر میں کوئی چیز کسی سے کوئی توقع رکھتا ہوں تو دوسرا بھی مجھ سے وہی توقع رکھتا ہے اور جو چیز میں چاہتا ہوں وہ بھی وہی چاہتا ہے پھر دیکھنا آپ خود میں کتنی بڑی تبدیلی محسوس کریں گے.
شکریہ!!!