Friday, 27 May 2016

غریب

غریب
                          SAd




ہاں میں غریب ہوں
خواہشوں کا مطیع ہوں

آسائشوں سے فصیح ہوں
مگر لذتوں کا صبیح  ہوں

محفلوں کا امیر ہوں
مگر حماقتوں کا جریر ہوں

گمان سے شفیع ہوں
مگر اخلاق سے قبیح ہوں

بظاہر تو میں مسیح ہوں
مگر باطن میں حقیر ہوں

ہمیشہ موقع کی تلاش میں رہتا ہوں
جہاں موقع مل جائے وہیں سب کا پیر ہوں

شاید اسی لئے دنیا میں تو رفیع ہوں
مگر حقیقت میں ایک مریض ہوں

کہنے کو تو طالب بقیع ہوں
مگر!!! مگر!!! میں تو باغئ  سمیع ہوں 

ہاں میں غریب ہوں
خواہشوں کا مطیع ہوں


*مفہوم الفاظ*
*مطیع ----- طابع ، فرمانبردار، غلام
* فصیح ---- یہاں مالا مال کے طور پر استعمال ہوا ہے
* جریر ---- دلیر، بہادر
*قبیح ---- بد، برا
*صبیح --- ادھر طلبگار کے طور پر استعمال ہوا ہے
*رفیع ---  کامیاب، بلند، ترقی یافتہ
*بقیع --- جہن بہت زیادہ درخت ہوں، جنت سے
*سمیع--- سننے والا، الله کا نام

Wednesday, 25 May 2016

The Fear

The Fear

                        SAd




The fear of dying
Dying from inside
Why it keeps haunting
The fear of losing
Losing someone very special
Why it keeps hurting
The fear of being alone
Alone in the dark
Why it keeps trembling
and
The fear of being unworthy
undesired
Why it keeps accumulating
When in reality
Life never stops
It goes on
The pendulum of the clock
Never stops
It Goes
On and on
Tick tock Tick Tock
Until those strange fears
The fears of becoming unknown
Becomes the reality
The very soul
That once matted
Matter no more

Matter no more

Friday, 13 May 2016

دل لگی

دل لگی

                      نائیل



وہ بولے:-
 جناب! آپ کی تو دل لگی تھی

ہم بولے:-
پھر دل پر کیوں لگی تھی؟

وہ بولے:-
جو بھی تھا مگر عشق نہیں تھا

ہم بولے:-
مگر وہ مرید بھی نہیں تھا

جو بھی تھا حسیں بہت تھا
اس کا نہ ہونا غمگیں بہت تھا

جب وہ تھا مانو ایسے تھا جیسے
میں ابھی اسی وقت سب کچھ وار دوں گا

اپنے سب غم، سب پریشانیاں
اک جھٹکے میں بھلا دوں گا

بس اس کو سنوں گا اور سنتا چلا جاؤں گا
وقت کے سب پیمانے یکسر گھما دوں گا

اس کو اتنا پیار دوں گا
کہ روٹھنا تک بھلا دوں گا

مگر کیا بتاؤں کہ میں خود ہی بیوفا نکلا
میں خود اپنے ہی درد میں مبتلا نکلا

جب اس کو میری ضرورت پڑی
میں ہی دنیا سے بیزار نکلا

مگر ابھی بھی امید کا دامن تو اب بھی نہیں چھوڑا
اک خواہش نے ناتا اب بھی نہیں توڑا

اک خواہش کہ کاش وہ راضی ہو جائے
اور وہ دل پر لگی پھر سے مان جائے

سب کچھ جیسا تھا ویسا ہی ہو جائے
وہ میرا ہنسنا وہ میرا کھیلنا سب لوٹ آئے

بس ایک بار اس کا جینا مرنا میرے سنگ ہو جائے
تنے تنہا یوں جینا بصم ہو جائے

اس کا ملنا ایک رسم ہو جائے
پھر چاہے آنکھ کا کھلنا بند ہو جائے

Friday, 6 May 2016

صیاد

صیاد  

                       نائیل 



دیدار صنم سے لیکر
دیدار یار تک
صیاد بیٹھے ہیں
تیار بیٹھے ہیں

بندوکیں اٹھائے
آستینیں چڑھائے
کرنے کو شکار
بلا عذر بے اختیار بیٹھے ہیں


دیدار صنم سے لیکر
دیدار یار تک
صیاد بیٹھے ہیں
تیار بیٹھے ہیں



آپ لوگوں کی پرزور فرمائش پر چھوٹی سی ننھی منھی سے غزل.....

Sunday, 24 April 2016

کفن بننے کا کاروبار

کفن بننے کا کاروبار

                        SAd



تپتی دھوپ میں چھاؤں جیسے
سلگتی ریت میں برکھا ویسے
دہکتے انگاروں سے آنسؤ ٹپکے
کھلتی کلیوں سے دھرتی لرزے
ڈھلتی عمر میں جوانی چھلکے
مہکتی فضا میں خوشبو برسے
کیسے کیسے دنیا انساں پرکھے
بات بات پر کاٹنے کو ترسے
شاید ہم اندھے گونگے بہرے ہیں
اسی لئے داغ الفت سہتے ہیں
گر جینے مرنے کی دھن میں رہتے ہیں
زندگی میں خودی ویرانی چنتے ہیں
پھر کچھ  بڑے بڑے بول بولتے ہیں
بلا وجہ خود ہی خودی میں جیتے ہیں
کہتے ہیں تو سہی ہی کہتے ہیں
مگر اپنی ہی رت میں جیتے ہیں
سننا چاہیں تو کچھ اور ہی سنتے ہیں
اور سمجھنے میں چپ ہی رہتے ہیں
شاید اسیلئے نظام زندگی جیسا چلتا ہے چلنے دو
ننھی سی جان کو اپنی موت آپ مرنے دو
ہمیں خواب غفلت سے مت جگاؤ
ہم گہری نیند میں ہیں ہمیں سونے دو
ہمارا کفن بننے کا کاروبار ہے
ہم کو کفن بننا ہے ہم کو کفن بننے دو

Saturday, 16 April 2016

وعظ اخلاق

وعظ اخلاق

                                   (SAd Special)




تہذیب و تمدن کا دستور ہے اخلاق
جیون کا حصول ہے اخلاق

بچپن کا پہلا درس ہے اخلاق
بڑھاپے کا مسکن ہے اخلاق

رؤسا کا افق ہے اخلاق
فقراء کا حسن ہے اخلاق

صابر کی صفت ہے اخلاق
منصف کی زد ہے اخلاق

حکومت کا طرز ہے اخلاق
دشمن پر کالی ضرب ہے اخلاق

زندگی کا قرب ہے اخلاق
موت کا ضبط ہے اخلاق

اسوۂ حسنہ کا حاصل ہے اخلاق
بندگی کی حمد ہے اخلاق

گویا انسان کی سیرت ہے اخلاق
نہیں تو جانور کی نسبت ہے اخلاق


انسنیت کا نام ہے اخلاق
کامیابی کا راز ہے اخلاق

کتابوں سے بھرے ہیں افکار
جینے کا سلیقہ ہے اخلاق

غلط سہی کا فرق ہے اخلاق
عزت ذلّت کا ظرف ہے اخلاق

مسائل کا حل ہے اخلاق
مصائب پر ضرب ہے اخلاق

دلیری کا رمز ہے اخلاق
فسادی پر غضب ہے اخلاق

 آؤ سب مل کر عہد کریں
کہ بلند کریں گے وعظ اخلاق

پہلے خود سیکھیں گے اخلاق
پھر سیکھائیں گے دنیا کو اخلاق

 پڑھائیں گے نئی نسل کو باب اخلاق
سیکھو، سمجھو اور سکھاؤ اخلاق!!

جہاں بداخلاق کا نہ کوئی ساتھی نہ ہم ساز
وہیں سب سے بہتر وہ ہے جسکا بلند ہے اخلاق

گر بھرتے جائیں گے صفحے آج
مگر ختم نہیں ہوگا یہ وعظ اخلاق



کافی دن ہو گئے تھے SAd# نے آپ کو مخاطب نہیں کیا اور نائیل نے عشق معشوقی کی رٹ لگائی رکھی مگر آج پھر اس کو جاگ آ ہی گئی ہے اور آپ کی خدمت میں کچھ عرض کر رہا ہے اگر آپ کو پیغام سمجھ آجائے تو دسروں تک بھی ضرور پہنچایئے گا شاید کسی اور کا بھی بھلا ہو جائے. اجازت طلب کرنے سے پہلے ایک بات ضرور کہوں گا کہ ہماری قوم اخلاقی پستی کا شکار ہے اور ہم لوگوں میں برداشت نہ ہونے کے برابر ہے. ہم لوگ دسروں پر تو انگلیاں اٹھاتے ہیں مگر اپنے گریبان میں نہیں جھانکتے. اگر ہم اپنی اصلاح شروع کر دیں تو ہماری عوام جس تبدیلی کے انتظار میں ہے وہ آجاۓ گی. بس یہ بات بھی ذہن میں بیٹھا لیں کہ اگر میں کوئی چیز کسی سے کوئی توقع رکھتا ہوں تو دوسرا بھی مجھ سے وہی توقع رکھتا ہے اور جو چیز میں چاہتا ہوں وہ بھی وہی چاہتا ہے پھر دیکھنا آپ خود میں کتنی بڑی تبدیلی محسوس کریں گے.
شکریہ!!!

Friday, 8 April 2016

آکھاں

آکھاں

(SAd)                        
   

      

یار آکھاں کہ پیار آکھاں
جے توں آکھیں تے دلدار آکھاں
بس اک واری جے کہہ دویں
کہ تو میری ایں
پھیر اک واری کی لاکھ وار آکھاں
سن سجنئیے!!!
عشق دی پہلی سیڑھی چڑھنی سوکھی نئ
جے چڑھ جاویں
پھیر دلدار کی دل وال آکھاں
تیری اکھاں وچ انجوں چنگے نئ لگدے
روندے کڑھدے سجن دل وچ نئ وسدے
اک واری پھیر جے حس کے دکھا دویں
سوہنا مکھڑا چم چم کردہ وکھا دویں
تاں جندڑی ساری تیری *دیعت آکھاں
یار دی پریت اپنی ریت آکھاں
یار آکھاں کہ پیار آکھاں
جے توں آکھیں تے دلدار آکھاں

* یہاں امانت کے طور پر استمعال ہوا ہے

Wednesday, 30 March 2016

اک بار

اک آخری بار
                 نائیل 



بس!!!
اک بار!!!
اک آخری بار!!!
تمھیں دیکھنا چاہتے ہیں
تمہاری بھولی بھالی
معصوم سی صورت
دل میں بسانا چاہتے ہیں
تمہاری نظروں سے
نظریں ملا کر
دل کی باتیں کرنا چاہتے ہیں
تمھیں!!! بس تمھیں!!!
سننا چاہتے ہیں
سمجھنا چاہتے ہیں
بس تمھارے ساتھ
کچھ پل بیتانا چاہتے ہیں
تھوڑا ہنسنا چاہتے ہیں
تھوڑا رونا چاہتے ہیں
ان پرانی یادوں کو
ان حسین ملاقاتوں کو
پھر سے جینا چاہتے ہیں
گر اک آخری بار
تمہارے دل کی
دھڑکن سننا چاہتے ہیں
ہمیں آج بھی یاد ہے
وہ تمہارا بات بات پر لڑنا
شکوے شکایتیں کرنا
ہمارا بے پناہ انتظار کرنا
خود دیر سے آنا
اور آتے ہی
 سارا ملبہ ہم ہی پر ڈالنا
بغیر کچھ کہے، بغیر کچھ سنے
ہمیں ہی قصور وار ٹھہرانا
اتنا بے بس کر دینا
کہ
چوں تک پر بھڑک جانا
پھر جب ہم نے
اپنے حق میں صفائی پیش کرنا


تو تم نے منہ پھلا کر بیٹھ جانا
پھر ہم نے گھنٹوں منانہ
تم نے مسلسل نظریں چرانا
ہم نے معافی معافی کی رٹ لگانا
تو تم نے تھوڑا سمبھل جانا
جیسے ہی ہماری جان میں جان آنا
تم نے عہد و پیماں لینا
ہم نے لبیک لبیک دوہرانا
پھر آخر میں
 وہ تمہارا مسکرا دینا
سب اک پل میں بھلا دینا
پیار بھری نظروں سے
محبت کے تیر برسا دینا
بس!!! 
اسی ادا پر ہم مر گئے تھے
نٹ کھٹ لمحوں میں بس گئے تھے
پھر نجانے کس کی نظر لگ گئی
ہماری منت حسرت بن گئی
تمہاری یاد فطرت بن گئی
اکیلے بیٹھنا عادت بن گئی
یونہی بیٹھے بیٹھے
کبھی ہنسنا، کبھی رونا
ضرورت بن گئی
اک تیری نراضگی
وبال جاں بن گئی
روز جینا، روز مرنا
عادت بن گئی
ہماری ایک غلطی
ہمارے گلے پڑ گئی
نادان تھے
نادانی کر گئے
معافی بھی کیسے ملتی
جانے انجانے
کیسی شیطانی کر گئے
ہنسی کھیلتی محبتیں بانٹتی
چاند سی پری
کی
دل آزاری کر گئے
ہم تو اب
معافی کے طلبگار ہیں
شاید کسی دن
انکا من ہلکا ہو جائے
شاید ان کا دل
ہماری معصومیت کا گواہ بن جائے
وہ مان جائے
سب بھول جائے
بس!!!
اک آخری بار!!!
ہماری التجا قبول ہو جائے
ہمیں معافی مل جائے
ہمیں معافی مل جائے

Sunday, 14 February 2016

سنو

سنو!!!

                 نائیل



سنو!!!
مجھے تم سے
کچھ کہنا ہے
اک بار تم کو
سینے سے لگانا ہے
سینے سے لگا کر
حال دل سنانا ہے
حال دل سنانا کر
اقرار عشق سننا ہے
اقرار عشق میں سننا ہے
کہ تمھیں مجھ سے پیار ہے
اتنا پیار جتنا کہ
سوہنی کو ماہیوال سے تھا
اور ہیر کو رانجھا سے تھا 
اور سسسی کو پننو سے تھا 
اور صاحبہ کو مرزا سے تھا
اور اتنا جتنا کہ
لیلیٰ کو منجنو سے تھا
فقط اتنا پیارکہ جس کی روشنی سے
چاند ستارے بھی مدھم پڑ جائیں
اظہار کی خاطر
الفاظ بھی کم پڑ جائیں
ناز کی خاطر
نکھرے بھی کم پڑ جائیں
ملاقات کی خاطر
شامیں بھی کم پڑ جائیں
ساتھ کی خاطر
ہماری عمریں بھی کم پڑ جائیں
نذر و نیاز کی خاطر
ہماری جانیں بھی کم پڑ جائیں 
حتیٰ کہ وفا کی خاطر
بیوفائی بھی کم پڑ جائے
بس اک بار سینے سے لگ کر
تم جو کہہ دو
میں بس تمہاری ہوں
جدائی کی ماری ہوں
تم جو ہاں کہہ دو
پھر اس دنیا سے عاری ہوں
اب کی بار جو سینے سے لگایا ہے
پھر سے جو دل میں بسایا ہے
ساتھ نبھانے کا عہد جو دوہرایا ہے
تو اس پر قائم رہنا
مجھ سے کبھی دور نہ جانا
اگر تم چلے گئے
تو میں لٹ جاؤں گی
زندگی ہار جاؤں گی
جینے کی تمنا بھول جاؤں گی
سنو!!!
تم جو لٹ گئی
تو میں بھی لٹ جاؤں گا
تم جو ہار گئی
تو میں بھی ہار جاؤں گا
اگر تمہاری جینے کی تمنا نہ رہی
تو میں تو مر ہی جاؤں گا
اب تو بس
رب سے یہی دعا ہے
کہ اس بار جو
تمہارا ساتھ دیا ہے
تو اس ساتھ کو
ہمارے نصیب میں کرے
شیطان کی چالوں سے
ہماری حفاظت کرے
سب سے بڑھ کر
ہماری محبت کو
ہمارے ساتھ کو
ابد تک
قائم و دائم رکھے
آمین!

میں نے یہ غزل کچھ اور سوچ کر لکھنا شروع کی تھی مگر اس کی کوئی اور ہی شکل نکل آئی ہے. خیر اس غزل میں میں نے میاں بیوی کی تعلّق کو ناراضگی ہونے کے بعد ان کی صلح ہونے کے عمل کو موضوع بنایا ہے(حالاں کہ مجھے خاک نہی پتا کیوں کہ میری کونسا ہوئی ہے شادی). مگر پھر بھی امید ہے آپ کو پسند آئی گی. اپنی آراء سے ضرور اگاہ کی جئے گا.

Thursday, 14 January 2016

پکار

پکار

            نائیل



نہیں نہیں وہم تو نہیں ہے
میرا یقین کرو وہم نہیں ہے

کوئی ہے جو پکار رہا ہے
مجھے اپنے پاس بلا رہا ہے

دن رات اک ہی صدا لگا رہا ہے
میرے انتظار میں خام-خا  آنسوں بہا رہا ہے

شاید وہ وہی شہر ہے جو مجھے پکار رہا ہے
وہی شہر جو اپنی حدوں کو بڑھا رہا ہے

سن او شہر! اگر تو سن رہا ہے
اگر تو ہی ہے جو پکار رہا ہے

سن لے کہ میں آؤنگا
اک دن لازمی آؤنگا

مگر آج نہیں، نہیں اس ہفتے نہیں
نہیں نہیں اس مہینے تو بلکل نہیں

ہاں مگر میں اسی سال آؤنگا
جون نہیں تو جولائی تک پہںچ جاؤنگا

سب رشتے ناتے توڑ کر
سب اپنے سپنے چھوڑ کر

اک دن تیرے پاس آونگا
آ کر تجھے اپناؤں گا

تیرے سوالوں کے جواب بھی ساتھ لاؤنگا
گویا سب جوابوں کی اک لڑی بناؤں گا

بس تھوڑا سا انتظار اور کر
جہاں اتنا صبر کیا تھوڑا اور کر

تھوڑا مجھے سمجھ
تھوڑی میری مجبوری سمجھ

گلے شکوے اک جگہ
بس تو اک عہد پکڑ

عہد کے میں اک دن آؤںگا
آ کر تجھے اپناؤں گا

مگرتو بھی اک عہد کر
پس تو بھی ایک وعدہ کر

کہ جس دن میں آؤںگا
تو مجھ سے منہ نہیں موڑے گا

میں تو تیرا ساتھ نہیں چھوڑسکونگا
مگر تو بھی میرا ساتھ نہیں چھوڑیگا

باقی جو بھی قسمت کو منظور ہوا
پھر وہی میرا نصیب ہوا

چل اب میں چلتا ہوں
تجھ سے اجازت طلب کرتا ہوں

تھوڑے دنوں بعد ہی سہی
جب میرے رب نے چاہا تجھ سے آ کر ملتا ہوں

Saturday, 2 January 2016

عاشقوں کی کہانیاں

عاشقوں کی کہانیاں

                            SAd





عاشقوں کی کہانیاں بھی بہت عجیب ہوتی ہیں
دل کے تھوڑا نزدیک ہوتی ہیں

دیدار یار سے شروع ہوتی ہیں
اظہار عشق پر پروان چڑھتی ہیں

کم و بیش درجنوں نشیب و فراز کی متیع ہوتی ہیں
کچھ ملن پر اپنی منزل مقصود کو پہنچتی ہیں

مگر حقیقت پسند بات کروں تو
زیادہ تر جدائی پر اختتام پذیر ہوتی ہیں

کبھی کبھارعاشقوں کی باتیں سن کر
ایک عجیب سی چاشنی پیدا ہوتی ہے

نجانے کیوں طلسماتی کشش محسوس ہوتی ہے
متوجہ رہنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے

سر،تال اور سنگیت کا سنگم ہوتا ہے
ایک ساز تھوڑا تیز، دوسرا تھوڑا مدھم ہوتا ہے




جانے انجانے میں فضا میں
سرور کی سی کیفیت پیدا ہوتی ہے

جی کرتا ہے کہ وہ بس سناتے رہیں
ہم ٹیک لگائے بس سنتے رہیں

دل سے دعائیں نکل رہی ہوتی ہیں
فتح کی گونج بلند کر رہی ہوتی ہیں

کبھی کبھار تو ایسا لگتا ہے
جیسے کہ کوئی سکرین سامنے لگی ہے

وہ پہلی نظر، پھر دوبارہ گزر اور وہ آخری عذر
فقط ساری گھٹنا آنکھوں کے سامنے گھٹ رہی ہوتی ہے

بس الله نہ کرے جدائی کسی کے نصیب میں نہ آئے
کبھی کوئی عاشق غم دل دل میں نہ بساتے

سچ پوچھو تو زندگی رل جاتی ہے
ننھی سی جان غلط رستے نکل جاتی ہیں

ایسا رستہ جہاں کبھی اجالا نہیں ہوتا
ایسا رستہ جہاں صرف اندھیرا ہی اندھیرا رہتا ہے

ایسا رستہ جہاں سے کبھی واپسی نہیں ہوتی
کچھ سوچنے، کچھ سمجھنے کی قوت نہیں رہتی

ہاں اگر میرے رب کی عنایت ہو جائے
اس کی طرف سے ہدایت مل جائے

تو بندہ تر جاتا ہے
بھنور سے نکل جاتا ہے

روشنی کو پا لیتا ہے
سچائی کو سمیٹ لیتا ہے

عشق سے عشق حقیقی کی طرف پرواز بھرتا ہے
کامیابی و کامرانی کی طرف رخ موڑ لیتا ہے

مگر ہدایت بھی ایسے ہی نہیں ملتی
ملے بھی تو کسی کسی کو ملتی ہے

چاہ! سیدھی راہ کی چاہ! سچ جاننے کی چاہ!
ہاں! سچ جاننے کی چاہ بہت ضروری ہوتی ہے

گویا ساری زندگی کی غلطیاں، کوتاہیاں
پلک جھپکتے مٹ جاتی ہیں

خیر! بات پھر گھوم پھر کر ادھر ہی آگئی
شاید زندگی کی سچائی پھر سامنے آگئی

دنیا کی بے ثباتی پھر سمجھ آگئی
فانی! فانی! فانی! دنیا پھر کہلا گئی

چاہے کوئی عاشق تھا چاہے کوئی معشوق
مگر موت پھر بھی دونوں کو آگئی

عزت، ذلت اعمال نامہ سے میل کھا گئی
جنت، دوزخ ساری زندگی کا صلہ ٹھہرا گئی

بات کہاں سے شروع ہوئی کہاں پر آگئی
شاید اس غزل کی کہانی انجام پا گئی

بس اک آخری بات کہوں گا
ذرا  دیہان سے سننا

کلمہ طیبہ کبھی نہ چھوڑنا
اسلام سے منہ کبھی موڑنا

کلمہ طیبہ کبھی نہ چھوڑنا
اسلام سے منہ کبھی نہ موڑنا

نہیں تو سب کیا کرایا
دہرا کا دہرا رہ جائے گا



اتفاق سے اس دسمبر میں کچھ لکھنا گوارا نہیں کیا. سب لوگ تو دسمبر برا بھلا کہ رہے تھے مگر مجھ سے پوچھو تو وہ تو بس ایک مہینہ ہے، وہ تو بس وقت ماپنے کا اک پیمانہ ہے. اس کا تو کوئی قصور ہی نہیں پھر بھی نجانے کیوں بیچارے کو سب کوستے رہتے ہیں، اپنے سارے دکھ اس پر انڈھیلتے رہتے ہیں. مگر میرے کہنے سننے سے تھوڑی نہ کچ ہو جانا ہے بس اک دو ہی کو سمجھ آنا ہے. مگر میں نے تو بس انہی کو ہی سمجھانا ہے......

Saturday, 21 November 2015

پہلی سی بات

پہلی سی بات

                                             (SAd vs Nael Era 50th writing)                  



شروع بھی کروں تو
کہاں سے شروع کروں

ختم بھی کروں تو
کہاں پر ختم کروں

راز کو راز ہی رکھوں تو
آخر کب تک رکھوں

اور افشاں بھی کروں تو
کیسے کروں

اسی کشمکش میں
ڈوبا جا رہا ہوں

من ہی من میں
گھوٹتا جا رہا ہوں

دن بدن تنہائی
بڑھتی جا رہی ہے

کچھ کہنے کچھ سننے کی چاہ
بڑھتی جا رہی ہے

وہ سامنے کھڑی تھی
حال دل جان چکی تھی

میری طرف شاید متوجہ تھی
وقت کی کڑی شاید رکی تھی

نجانے کیوں دل سے آواز نکلی
بتا تو یہ آرزو زباں سے کیسے نکلی

نادانی میں بھی
اک آہ نکلی

تو تو درویش تھا
پھر کیسے یہ راہ نکلی

ابھی کے ابھی چھوڑ دے سب
ابھی کے ابھی سینچ لے لب

فقط چہرے پر
ذرا سی مسکان عیاں ہوئی

بات نہ کرنے کی
چاہ نماں ہوئی

شاید کسی کے آنے کی آواز
کانوں پر گراں گزری

بس یونہی ذرا سی سوزش
سینے میں سے ابھری

شاید اسی سوزش سے
ظہر میں اک التجا نکلی

سیدھی راہ دکھانے کی
چاہ ابھری

پھر سوئی وہیں اٹک گئی
ساری بازی وہیں پلٹ گی

اب اداسی ہو بھی تو
کیوں کر ہو

شکوہ ہو بھی تو
کیوں کر ہو

خودی تو رب سے 
نیکی مانگی تھی

مگر آج اتنے سالوں بعد
پھر سے وہی ادا مانگی ہے

سمجھ نہیں آئی
یہ ریت کس نے باندھی ہے

اس کی ڈولی بھی نہ اٹھائی
ہماری جان بھی نہ چھڑائی

اب جو ملن ہو بھی جائے نائیل
اب جو وقت پلٹ بھی جائے شاید

مگر وہ پہلی سی بات
پھر کبھی نہ رہے گی

ساتھ جینے مرنے کی چاہ
پھر کبھی نہ رہی گی

مگر پہلی سی بات
پھر کبھی نہ رہی گی

ساتھ جینے مرنے کی چاہ
پھر کبھی نہ رہی گی


ہنسی مزاق میں شروع ہونے والا سفر آج مجھے بہت آگے تک لے آیا اور مجھے پتا بھی نہیں چلا کہ کب میں ٥٠ کے ہندسے تک پہنچ گیا اور جب پہنچا تو خود کو روک لیا کہ یہ والی کچھ خاص ہونی چاہیئے مگر جو بھی لکھنے کی کوہشش کی مکمل کر ہی نہی پایا اور پھر آج نجانے کیا سوچ کر یہ لکھ دی اور پھر اس کو ہی پچاسویں بنا دیا. میں آپ کی آراء ابھی جواب نہیں دے پاؤں شاید کیوں ابھی میرے امتحان ہو رہے ہیں مگر امتحانوں کے بعد لازمی جواب دوں گا.

شکریہ!!!!!

Monday, 5 October 2015

جواب

جواب
              نائیل






اک ہی سوال تھا
اک ہی جواب تھا

معشوق سے سوال تھا
ناں میں ہی جواب تھا

قصہ تو وہیں تمام تھا
پھر کیوں اتنا اہتمام تھا

دکھ درد کا جو نظام تھا
فضول میں ہی رواں تھا

عشق کا یہی فلسفہ تھا 
عشق کا یہی تقاضا تھا

معشوق کی رضامندی پر
سارا جہاں قربان تھا



نفی میں بھی تو شاد تھا
نَفیءِ حَیات میں کامران تھا

انکار نے سب کچھ بھولا دیا
سارے اسباق کو جھٹلا دیا

رنجھ کو دل میں بسا لیا
غم کا تاج سر سجا لیا

انا سے جب ہاتھ ملا لیا
عرضی کو جینے مرنے کا مسئلہ بنا لیا

ریت رواجوں کو ٹھکرا دیا
گناہ کے رستے کو اپنا لیا



پانے کو تو پا لیا
مگر عشق کو بلی چڑھا دیا

عقیدت کے جذبے کو
ہوس نے عشق خام بنا دیا

 جب تک ہوش آیا
سب کچھ ہی گنوا دیا

کوسنے سے من بہلا لیا
مگر پاپ نے ڈنکا بجا دیا

پھر کیا دن کیا رات
بس مسجد کو ٹھکانہ بنا لیا



رو رو کر فسانہ بنا دیا
معافی کی طلب نے جوگی بنا دیا

معاقب خود کو کہلوا لیا
پھر بھی سجدے میں سر جھکا دیا

ساری زندگی کے لئے
 اک ہی کھٹکا لگتا رہا

جو رب نے معاف نہ کیا 
اگر دوزخ کو ٹھکانا بنا دیا

تو سب کچھ ہی ہار دیا
رسوائی نے گلے لگا دیا

مگر پھر قرآن نے سہارا دے دیا
میرے رب نے خود کو رحمٰن اور رحیم بتلا دیا

مغفرت کا رستہ دکھلا دیا
زخم پر مرہم لگا دیا

بھولے بھٹکوں کو رستہ دکھلا دیا
اپنی عظمت سے یہ نظام حیات چلا دیا




کافی دنوں سے ایک غزل جو لکھی ہوئی ہے اس کو مکمل کرنے کی کوہشش کر رہا تھا مگر کوئی فاقہ نہیں ہو رہا تھا تو آج مینے سوچا کچھ نیا لکھتے ہیں تو بس پھر بغیر کچھ سوچے سمجھے لکھنا شروع کر دیا اور جب اس کا اختتام ہوا تو کچھ ایسی ہی چیز میرے سامنے آگئی اور مجھے ایسے ہی چیزیں لکھنا پسند ہے. امید کرتا ہوں.

اعلان:-

  آپ لوگوں کو بتا کر مجھے خوشی ہو رہی ہے کہ یہ میری G+ پر ٤٩ کاوش ہے. اب آپ میری بلاگ کھولیں گے تو کہیں گے کہ یہ تو تو پچاسویں ہے مگر نہیں. ایک نظم مینے لکھی تھی اور پبلش بھی کی تھی بلاگ پر مگر آپ لوگوں کو پڑھائی نہیں تھی. تو سوال اٹھا کہ پھر یہ ٤٩ کیسے ہے تو اس بلاگ میں ٢ blogs ایسی ہیں جو مینے کسی سے لی ہیں اور وہاں بتایا ہوا ہے. اسی لئے میری اگلی کاوش ٥٠ ہو گی اور وہ ہو گی بھی پڑھنے لائق تو اس کا لازمی انتظار کی جئے گا.

شکریہ!!!!