Wednesday, 30 March 2016

اک بار

اک آخری بار
                 نائیل 



بس!!!
اک بار!!!
اک آخری بار!!!
تمھیں دیکھنا چاہتے ہیں
تمہاری بھولی بھالی
معصوم سی صورت
دل میں بسانا چاہتے ہیں
تمہاری نظروں سے
نظریں ملا کر
دل کی باتیں کرنا چاہتے ہیں
تمھیں!!! بس تمھیں!!!
سننا چاہتے ہیں
سمجھنا چاہتے ہیں
بس تمھارے ساتھ
کچھ پل بیتانا چاہتے ہیں
تھوڑا ہنسنا چاہتے ہیں
تھوڑا رونا چاہتے ہیں
ان پرانی یادوں کو
ان حسین ملاقاتوں کو
پھر سے جینا چاہتے ہیں
گر اک آخری بار
تمہارے دل کی
دھڑکن سننا چاہتے ہیں
ہمیں آج بھی یاد ہے
وہ تمہارا بات بات پر لڑنا
شکوے شکایتیں کرنا
ہمارا بے پناہ انتظار کرنا
خود دیر سے آنا
اور آتے ہی
 سارا ملبہ ہم ہی پر ڈالنا
بغیر کچھ کہے، بغیر کچھ سنے
ہمیں ہی قصور وار ٹھہرانا
اتنا بے بس کر دینا
کہ
چوں تک پر بھڑک جانا
پھر جب ہم نے
اپنے حق میں صفائی پیش کرنا


تو تم نے منہ پھلا کر بیٹھ جانا
پھر ہم نے گھنٹوں منانہ
تم نے مسلسل نظریں چرانا
ہم نے معافی معافی کی رٹ لگانا
تو تم نے تھوڑا سمبھل جانا
جیسے ہی ہماری جان میں جان آنا
تم نے عہد و پیماں لینا
ہم نے لبیک لبیک دوہرانا
پھر آخر میں
 وہ تمہارا مسکرا دینا
سب اک پل میں بھلا دینا
پیار بھری نظروں سے
محبت کے تیر برسا دینا
بس!!! 
اسی ادا پر ہم مر گئے تھے
نٹ کھٹ لمحوں میں بس گئے تھے
پھر نجانے کس کی نظر لگ گئی
ہماری منت حسرت بن گئی
تمہاری یاد فطرت بن گئی
اکیلے بیٹھنا عادت بن گئی
یونہی بیٹھے بیٹھے
کبھی ہنسنا، کبھی رونا
ضرورت بن گئی
اک تیری نراضگی
وبال جاں بن گئی
روز جینا، روز مرنا
عادت بن گئی
ہماری ایک غلطی
ہمارے گلے پڑ گئی
نادان تھے
نادانی کر گئے
معافی بھی کیسے ملتی
جانے انجانے
کیسی شیطانی کر گئے
ہنسی کھیلتی محبتیں بانٹتی
چاند سی پری
کی
دل آزاری کر گئے
ہم تو اب
معافی کے طلبگار ہیں
شاید کسی دن
انکا من ہلکا ہو جائے
شاید ان کا دل
ہماری معصومیت کا گواہ بن جائے
وہ مان جائے
سب بھول جائے
بس!!!
اک آخری بار!!!
ہماری التجا قبول ہو جائے
ہمیں معافی مل جائے
ہمیں معافی مل جائے

Sunday, 14 February 2016

سنو

سنو!!!

                 نائیل



سنو!!!
مجھے تم سے
کچھ کہنا ہے
اک بار تم کو
سینے سے لگانا ہے
سینے سے لگا کر
حال دل سنانا ہے
حال دل سنانا کر
اقرار عشق سننا ہے
اقرار عشق میں سننا ہے
کہ تمھیں مجھ سے پیار ہے
اتنا پیار جتنا کہ
سوہنی کو ماہیوال سے تھا
اور ہیر کو رانجھا سے تھا 
اور سسسی کو پننو سے تھا 
اور صاحبہ کو مرزا سے تھا
اور اتنا جتنا کہ
لیلیٰ کو منجنو سے تھا
فقط اتنا پیارکہ جس کی روشنی سے
چاند ستارے بھی مدھم پڑ جائیں
اظہار کی خاطر
الفاظ بھی کم پڑ جائیں
ناز کی خاطر
نکھرے بھی کم پڑ جائیں
ملاقات کی خاطر
شامیں بھی کم پڑ جائیں
ساتھ کی خاطر
ہماری عمریں بھی کم پڑ جائیں
نذر و نیاز کی خاطر
ہماری جانیں بھی کم پڑ جائیں 
حتیٰ کہ وفا کی خاطر
بیوفائی بھی کم پڑ جائے
بس اک بار سینے سے لگ کر
تم جو کہہ دو
میں بس تمہاری ہوں
جدائی کی ماری ہوں
تم جو ہاں کہہ دو
پھر اس دنیا سے عاری ہوں
اب کی بار جو سینے سے لگایا ہے
پھر سے جو دل میں بسایا ہے
ساتھ نبھانے کا عہد جو دوہرایا ہے
تو اس پر قائم رہنا
مجھ سے کبھی دور نہ جانا
اگر تم چلے گئے
تو میں لٹ جاؤں گی
زندگی ہار جاؤں گی
جینے کی تمنا بھول جاؤں گی
سنو!!!
تم جو لٹ گئی
تو میں بھی لٹ جاؤں گا
تم جو ہار گئی
تو میں بھی ہار جاؤں گا
اگر تمہاری جینے کی تمنا نہ رہی
تو میں تو مر ہی جاؤں گا
اب تو بس
رب سے یہی دعا ہے
کہ اس بار جو
تمہارا ساتھ دیا ہے
تو اس ساتھ کو
ہمارے نصیب میں کرے
شیطان کی چالوں سے
ہماری حفاظت کرے
سب سے بڑھ کر
ہماری محبت کو
ہمارے ساتھ کو
ابد تک
قائم و دائم رکھے
آمین!

میں نے یہ غزل کچھ اور سوچ کر لکھنا شروع کی تھی مگر اس کی کوئی اور ہی شکل نکل آئی ہے. خیر اس غزل میں میں نے میاں بیوی کی تعلّق کو ناراضگی ہونے کے بعد ان کی صلح ہونے کے عمل کو موضوع بنایا ہے(حالاں کہ مجھے خاک نہی پتا کیوں کہ میری کونسا ہوئی ہے شادی). مگر پھر بھی امید ہے آپ کو پسند آئی گی. اپنی آراء سے ضرور اگاہ کی جئے گا.

Thursday, 14 January 2016

پکار

پکار

            نائیل



نہیں نہیں وہم تو نہیں ہے
میرا یقین کرو وہم نہیں ہے

کوئی ہے جو پکار رہا ہے
مجھے اپنے پاس بلا رہا ہے

دن رات اک ہی صدا لگا رہا ہے
میرے انتظار میں خام-خا  آنسوں بہا رہا ہے

شاید وہ وہی شہر ہے جو مجھے پکار رہا ہے
وہی شہر جو اپنی حدوں کو بڑھا رہا ہے

سن او شہر! اگر تو سن رہا ہے
اگر تو ہی ہے جو پکار رہا ہے

سن لے کہ میں آؤنگا
اک دن لازمی آؤنگا

مگر آج نہیں، نہیں اس ہفتے نہیں
نہیں نہیں اس مہینے تو بلکل نہیں

ہاں مگر میں اسی سال آؤنگا
جون نہیں تو جولائی تک پہںچ جاؤنگا

سب رشتے ناتے توڑ کر
سب اپنے سپنے چھوڑ کر

اک دن تیرے پاس آونگا
آ کر تجھے اپناؤں گا

تیرے سوالوں کے جواب بھی ساتھ لاؤنگا
گویا سب جوابوں کی اک لڑی بناؤں گا

بس تھوڑا سا انتظار اور کر
جہاں اتنا صبر کیا تھوڑا اور کر

تھوڑا مجھے سمجھ
تھوڑی میری مجبوری سمجھ

گلے شکوے اک جگہ
بس تو اک عہد پکڑ

عہد کے میں اک دن آؤںگا
آ کر تجھے اپناؤں گا

مگرتو بھی اک عہد کر
پس تو بھی ایک وعدہ کر

کہ جس دن میں آؤںگا
تو مجھ سے منہ نہیں موڑے گا

میں تو تیرا ساتھ نہیں چھوڑسکونگا
مگر تو بھی میرا ساتھ نہیں چھوڑیگا

باقی جو بھی قسمت کو منظور ہوا
پھر وہی میرا نصیب ہوا

چل اب میں چلتا ہوں
تجھ سے اجازت طلب کرتا ہوں

تھوڑے دنوں بعد ہی سہی
جب میرے رب نے چاہا تجھ سے آ کر ملتا ہوں

Saturday, 2 January 2016

عاشقوں کی کہانیاں

عاشقوں کی کہانیاں

                            SAd





عاشقوں کی کہانیاں بھی بہت عجیب ہوتی ہیں
دل کے تھوڑا نزدیک ہوتی ہیں

دیدار یار سے شروع ہوتی ہیں
اظہار عشق پر پروان چڑھتی ہیں

کم و بیش درجنوں نشیب و فراز کی متیع ہوتی ہیں
کچھ ملن پر اپنی منزل مقصود کو پہنچتی ہیں

مگر حقیقت پسند بات کروں تو
زیادہ تر جدائی پر اختتام پذیر ہوتی ہیں

کبھی کبھارعاشقوں کی باتیں سن کر
ایک عجیب سی چاشنی پیدا ہوتی ہے

نجانے کیوں طلسماتی کشش محسوس ہوتی ہے
متوجہ رہنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے

سر،تال اور سنگیت کا سنگم ہوتا ہے
ایک ساز تھوڑا تیز، دوسرا تھوڑا مدھم ہوتا ہے




جانے انجانے میں فضا میں
سرور کی سی کیفیت پیدا ہوتی ہے

جی کرتا ہے کہ وہ بس سناتے رہیں
ہم ٹیک لگائے بس سنتے رہیں

دل سے دعائیں نکل رہی ہوتی ہیں
فتح کی گونج بلند کر رہی ہوتی ہیں

کبھی کبھار تو ایسا لگتا ہے
جیسے کہ کوئی سکرین سامنے لگی ہے

وہ پہلی نظر، پھر دوبارہ گزر اور وہ آخری عذر
فقط ساری گھٹنا آنکھوں کے سامنے گھٹ رہی ہوتی ہے

بس الله نہ کرے جدائی کسی کے نصیب میں نہ آئے
کبھی کوئی عاشق غم دل دل میں نہ بساتے

سچ پوچھو تو زندگی رل جاتی ہے
ننھی سی جان غلط رستے نکل جاتی ہیں

ایسا رستہ جہاں کبھی اجالا نہیں ہوتا
ایسا رستہ جہاں صرف اندھیرا ہی اندھیرا رہتا ہے

ایسا رستہ جہاں سے کبھی واپسی نہیں ہوتی
کچھ سوچنے، کچھ سمجھنے کی قوت نہیں رہتی

ہاں اگر میرے رب کی عنایت ہو جائے
اس کی طرف سے ہدایت مل جائے

تو بندہ تر جاتا ہے
بھنور سے نکل جاتا ہے

روشنی کو پا لیتا ہے
سچائی کو سمیٹ لیتا ہے

عشق سے عشق حقیقی کی طرف پرواز بھرتا ہے
کامیابی و کامرانی کی طرف رخ موڑ لیتا ہے

مگر ہدایت بھی ایسے ہی نہیں ملتی
ملے بھی تو کسی کسی کو ملتی ہے

چاہ! سیدھی راہ کی چاہ! سچ جاننے کی چاہ!
ہاں! سچ جاننے کی چاہ بہت ضروری ہوتی ہے

گویا ساری زندگی کی غلطیاں، کوتاہیاں
پلک جھپکتے مٹ جاتی ہیں

خیر! بات پھر گھوم پھر کر ادھر ہی آگئی
شاید زندگی کی سچائی پھر سامنے آگئی

دنیا کی بے ثباتی پھر سمجھ آگئی
فانی! فانی! فانی! دنیا پھر کہلا گئی

چاہے کوئی عاشق تھا چاہے کوئی معشوق
مگر موت پھر بھی دونوں کو آگئی

عزت، ذلت اعمال نامہ سے میل کھا گئی
جنت، دوزخ ساری زندگی کا صلہ ٹھہرا گئی

بات کہاں سے شروع ہوئی کہاں پر آگئی
شاید اس غزل کی کہانی انجام پا گئی

بس اک آخری بات کہوں گا
ذرا  دیہان سے سننا

کلمہ طیبہ کبھی نہ چھوڑنا
اسلام سے منہ کبھی موڑنا

کلمہ طیبہ کبھی نہ چھوڑنا
اسلام سے منہ کبھی نہ موڑنا

نہیں تو سب کیا کرایا
دہرا کا دہرا رہ جائے گا



اتفاق سے اس دسمبر میں کچھ لکھنا گوارا نہیں کیا. سب لوگ تو دسمبر برا بھلا کہ رہے تھے مگر مجھ سے پوچھو تو وہ تو بس ایک مہینہ ہے، وہ تو بس وقت ماپنے کا اک پیمانہ ہے. اس کا تو کوئی قصور ہی نہیں پھر بھی نجانے کیوں بیچارے کو سب کوستے رہتے ہیں، اپنے سارے دکھ اس پر انڈھیلتے رہتے ہیں. مگر میرے کہنے سننے سے تھوڑی نہ کچ ہو جانا ہے بس اک دو ہی کو سمجھ آنا ہے. مگر میں نے تو بس انہی کو ہی سمجھانا ہے......

Saturday, 21 November 2015

پہلی سی بات

پہلی سی بات

                                             (SAd vs Nael Era 50th writing)                  



شروع بھی کروں تو
کہاں سے شروع کروں

ختم بھی کروں تو
کہاں پر ختم کروں

راز کو راز ہی رکھوں تو
آخر کب تک رکھوں

اور افشاں بھی کروں تو
کیسے کروں

اسی کشمکش میں
ڈوبا جا رہا ہوں

من ہی من میں
گھوٹتا جا رہا ہوں

دن بدن تنہائی
بڑھتی جا رہی ہے

کچھ کہنے کچھ سننے کی چاہ
بڑھتی جا رہی ہے

وہ سامنے کھڑی تھی
حال دل جان چکی تھی

میری طرف شاید متوجہ تھی
وقت کی کڑی شاید رکی تھی

نجانے کیوں دل سے آواز نکلی
بتا تو یہ آرزو زباں سے کیسے نکلی

نادانی میں بھی
اک آہ نکلی

تو تو درویش تھا
پھر کیسے یہ راہ نکلی

ابھی کے ابھی چھوڑ دے سب
ابھی کے ابھی سینچ لے لب

فقط چہرے پر
ذرا سی مسکان عیاں ہوئی

بات نہ کرنے کی
چاہ نماں ہوئی

شاید کسی کے آنے کی آواز
کانوں پر گراں گزری

بس یونہی ذرا سی سوزش
سینے میں سے ابھری

شاید اسی سوزش سے
ظہر میں اک التجا نکلی

سیدھی راہ دکھانے کی
چاہ ابھری

پھر سوئی وہیں اٹک گئی
ساری بازی وہیں پلٹ گی

اب اداسی ہو بھی تو
کیوں کر ہو

شکوہ ہو بھی تو
کیوں کر ہو

خودی تو رب سے 
نیکی مانگی تھی

مگر آج اتنے سالوں بعد
پھر سے وہی ادا مانگی ہے

سمجھ نہیں آئی
یہ ریت کس نے باندھی ہے

اس کی ڈولی بھی نہ اٹھائی
ہماری جان بھی نہ چھڑائی

اب جو ملن ہو بھی جائے نائیل
اب جو وقت پلٹ بھی جائے شاید

مگر وہ پہلی سی بات
پھر کبھی نہ رہے گی

ساتھ جینے مرنے کی چاہ
پھر کبھی نہ رہی گی

مگر پہلی سی بات
پھر کبھی نہ رہی گی

ساتھ جینے مرنے کی چاہ
پھر کبھی نہ رہی گی


ہنسی مزاق میں شروع ہونے والا سفر آج مجھے بہت آگے تک لے آیا اور مجھے پتا بھی نہیں چلا کہ کب میں ٥٠ کے ہندسے تک پہنچ گیا اور جب پہنچا تو خود کو روک لیا کہ یہ والی کچھ خاص ہونی چاہیئے مگر جو بھی لکھنے کی کوہشش کی مکمل کر ہی نہی پایا اور پھر آج نجانے کیا سوچ کر یہ لکھ دی اور پھر اس کو ہی پچاسویں بنا دیا. میں آپ کی آراء ابھی جواب نہیں دے پاؤں شاید کیوں ابھی میرے امتحان ہو رہے ہیں مگر امتحانوں کے بعد لازمی جواب دوں گا.

شکریہ!!!!!

Monday, 5 October 2015

جواب

جواب
              نائیل






اک ہی سوال تھا
اک ہی جواب تھا

معشوق سے سوال تھا
ناں میں ہی جواب تھا

قصہ تو وہیں تمام تھا
پھر کیوں اتنا اہتمام تھا

دکھ درد کا جو نظام تھا
فضول میں ہی رواں تھا

عشق کا یہی فلسفہ تھا 
عشق کا یہی تقاضا تھا

معشوق کی رضامندی پر
سارا جہاں قربان تھا



نفی میں بھی تو شاد تھا
نَفیءِ حَیات میں کامران تھا

انکار نے سب کچھ بھولا دیا
سارے اسباق کو جھٹلا دیا

رنجھ کو دل میں بسا لیا
غم کا تاج سر سجا لیا

انا سے جب ہاتھ ملا لیا
عرضی کو جینے مرنے کا مسئلہ بنا لیا

ریت رواجوں کو ٹھکرا دیا
گناہ کے رستے کو اپنا لیا



پانے کو تو پا لیا
مگر عشق کو بلی چڑھا دیا

عقیدت کے جذبے کو
ہوس نے عشق خام بنا دیا

 جب تک ہوش آیا
سب کچھ ہی گنوا دیا

کوسنے سے من بہلا لیا
مگر پاپ نے ڈنکا بجا دیا

پھر کیا دن کیا رات
بس مسجد کو ٹھکانہ بنا لیا



رو رو کر فسانہ بنا دیا
معافی کی طلب نے جوگی بنا دیا

معاقب خود کو کہلوا لیا
پھر بھی سجدے میں سر جھکا دیا

ساری زندگی کے لئے
 اک ہی کھٹکا لگتا رہا

جو رب نے معاف نہ کیا 
اگر دوزخ کو ٹھکانا بنا دیا

تو سب کچھ ہی ہار دیا
رسوائی نے گلے لگا دیا

مگر پھر قرآن نے سہارا دے دیا
میرے رب نے خود کو رحمٰن اور رحیم بتلا دیا

مغفرت کا رستہ دکھلا دیا
زخم پر مرہم لگا دیا

بھولے بھٹکوں کو رستہ دکھلا دیا
اپنی عظمت سے یہ نظام حیات چلا دیا




کافی دنوں سے ایک غزل جو لکھی ہوئی ہے اس کو مکمل کرنے کی کوہشش کر رہا تھا مگر کوئی فاقہ نہیں ہو رہا تھا تو آج مینے سوچا کچھ نیا لکھتے ہیں تو بس پھر بغیر کچھ سوچے سمجھے لکھنا شروع کر دیا اور جب اس کا اختتام ہوا تو کچھ ایسی ہی چیز میرے سامنے آگئی اور مجھے ایسے ہی چیزیں لکھنا پسند ہے. امید کرتا ہوں.

اعلان:-

  آپ لوگوں کو بتا کر مجھے خوشی ہو رہی ہے کہ یہ میری G+ پر ٤٩ کاوش ہے. اب آپ میری بلاگ کھولیں گے تو کہیں گے کہ یہ تو تو پچاسویں ہے مگر نہیں. ایک نظم مینے لکھی تھی اور پبلش بھی کی تھی بلاگ پر مگر آپ لوگوں کو پڑھائی نہیں تھی. تو سوال اٹھا کہ پھر یہ ٤٩ کیسے ہے تو اس بلاگ میں ٢ blogs ایسی ہیں جو مینے کسی سے لی ہیں اور وہاں بتایا ہوا ہے. اسی لئے میری اگلی کاوش ٥٠ ہو گی اور وہ ہو گی بھی پڑھنے لائق تو اس کا لازمی انتظار کی جئے گا.

شکریہ!!!!

Tuesday, 18 August 2015

معصوم سی لڑکی

معصوم سی لڑکی

                              SAd Special





سیدھی سادھی معصوم سی لڑکی

خدا کرے تم سدا مسکراتی رہو


بھولی بھالی نازک سی کلی

خدا کرے تم سدا مہکتی رہو







ہنستی ہنساتی مسکراہٹیں بانٹتی

تم سدا کھلکھلاتی رہو


لہلہاتی گنگناتی تڑیاں لگاتی

تم سدا چہکتی رہو


چڑتی چڑاتی نخرے دکھاتی

تم سدا چلبلاتی رہو


سجتی سنورتی کاجل سورمہ لگاتی

تم سدا سنورتی رہو


ملتی ملاتی سہیلیاں بناتی

تم سدا چاہتیں بانٹی رہو   


عیدی دیتی عیدی مانگتی

تم سدا عید مناتی رہو


روتی دھوتی احساس دلاتی

تم سدا غم طرازتی رہو


چھپتی چھپاتی نظروں سے نظریں چراتی

دعا ہے کہ تم جیسی ہو ہمیشہ ویسی ہی رہو




Diplomatic statement


یار آپ لوگوں کو تو پتا ہی ہے کہ اول تو ہمیں کوئی لڑکی گھاس نہیں ڈالتی اور دوسرا میں تو معصوم سا بندہ ہوں اور ایسی ویسی نظم لکھنے کا قائل بھی نہیں ہوں. یہ ایک تجربہ تھا. چوں کہ میں سیکھنے کے مراحل میں ہوں تو میں نے سوچا اس طرح کی بھی کوئی نظم لکھ لیتے ہیں. اس سے پہلے بھی ایک ایسی ہی نظم لکھی تھی 'پری نما شہزادی' مگر اس کو مکمل نہیں کر سکا. اس لیے اس کو نظم ہی سمجھنا ہے کچھ اور نہیں (کچھ اور سمجھ بھی لیا تو کیا فرق پڑتا ہے)....
wink! wink!

Thursday, 16 July 2015

عاشق اور ہم

عاشق اور ہم

                         SAd



لوگ مختلف غم سینے میں چھپاتے ہیں
مگر ہم تو عجب درد دل میں بساتے ہیں

لوگ عشق اور محبت میں چوٹ کھاتے ہیں
مگر ہم تو عجب ہی گل کھلاتے ہیں

لوگوں کو تو محبوب مل جائے
تو ڈنکا سارے شہر میں بجاتے ہیں

نہ ملے تو رو دھو کر دل بہلاتے ہیں 
اپنا دکھڑا ساری دنیا کو بتلاتے ہیں

مگر ہم پر تو کامیابی بھی ناکامی بن کر ٹوٹتی ہے
بہترین نہیں تو پھر طعنوں سے بھی کام چلاتے ہیں


ان کی محبوب کو پانے کی چاہ انہیں جینے نہیں دیتی
مگر ہم تو اپنی محنت کے صلے سے خوش ہوجاتے ہیں


وہ راتوں کو جاگنے کا قصہ ساری دنیا کو بتلاتے ہیں
مگر ہم نیند سے بھڑ کر کتابوں میں سر کھپاتے ہیں 


ان میں تو محبوب سے بات کرنے کی سکت بھی نہیں ہوتی
مگر ہم تو دنیا جہاں کی رنجشوں کو سہتے چلے جاتے ہیں

بیچارے وہ لوگ جب جدائی سے ہاتھ ملاتے ہیں
ہم دنیا فتح کرنے کے خواب آنکھوں میں سجاتے ہیں


ان لوگوں کو کوئی کمائی شامائی کی فکر نہیں ہوتی
وہ تو بس دل لگی کے ساز گن گناتے ہیں

ہم سے پوچھے بھلا کوئی ڈھیلا جیب میں نہیں
اور اسٹیو جاب کو موبائل چلانا سکھاتے ہیں

ان لوگوں کی سوچ تو بہت محدود ہوتی ہے
مگر ہم شہزادے تو ہر فن مولا کہلاتے ہیں

شکر کرو ان لوگوں کی کوئی ادارہ باز پرس نہیں کرتا
ہم سے پوچھو یہ یونیورسٹی والے کیسے ظلم ڈھاتے ہیں

ان کو تو دنیا والے ہیر، رانجھا، اور مجنو کے خطاب نوازتے ہیں
مگر ہمیں نکمے، کم چور اور ہڈحرام کی اصطلاح میں لاتے ہیں

وہ لوگ تو پھر بھی سچے عاشق کہلاتے ہیں
مگر ہم کیا بتائیں؟؟ ہم تو طالبعلم کہلاتے ہیں




کچھ چیزوں کو اپنے سر لینے سے خوشی ہوتی ہے مگر اس کو میں اپنے سر نہیں لینا چاہتا. مجھے ڈر ہے کہ لوگ اس کا غلط مطلب لینگے اور میری پرانی نظموں کو ذہن میں رکھتے ہوئے یہ سمجھیں گے کہ میں تعلیم کہ خلاف ہوں. نہیں ہرگز نہیں بلکہ میں تو تعلیم کا بہت بڑا حامی ہوں. تعلیم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے تو میں کیسے غلط بات کہہ سکتا ہوں. میں تو اصل میں اس تعلیمی نظام کے خلاف ہوں اور اس کے ہی خلاف لکھتا ہوں اور اس میں جو کمیاں ہیں وہ بیان کرتا ہوں. میں شاید اگر زندگی رہی تو اپنی نظم میں یا کسی مضمون میں اپنا تعلیمی ماڈل پیش کروں جس میں آپ لوگوں کے سب ابہام دور ہو جاینگے.

اگر اس نظم میں کوئی غلطی کوتاہی نظر آئے تو نشاندہی کر دی جئے گا.

شکریہ !!!!

Sunday, 5 July 2015

ہتھیلی

ہتھیلی

                        SAd





بیٹھے بیٹھے پڑ ہی گئی نظر ہتھیلی پر
دیکھتے دیکھتے ٹک ہی گئی نظر ہتھیلی پر

خالی خالی سی تھی اپنی زندگی پر
اسی ریل پیل میں ڈھیلا بھی نہ ہتھیلی پر

ہنسی چھوٹ رہی تھی اپنی مفلسی پر
کر بھی کیا سکتے تھے اپنی بےبسی پر

ایسا کوئی خاص قصوربھی نہیں تھا پر
 کمانے کا کوئی ذمہ بھی نہیں تھا ہم پر

لگا دیا تھا ہمیں تو پڑھائی کی دگڑھ پر
فقط نان و نفقہ کا سارا ذمہ تھا ہمارے والدین پر

ہٹا کٹا، عاقل بالغ، سب کچھ تو تھا پر
فقط کچھ بھی تو نہیں تھا ہتھیلی پر

کہتے تھے کہ یہی ریت رواج ہیں ان راہوں پر
کون سمجھاتا کہ یہ تو سراسر ظلم ہے جوانوں پر

آخر کب سے پلو سے باندھ کر رکھا ہے ہم سب کو پر
وقت کا پیمانہ مخصوص ہے نہیں روکتا کسی جگہ پر

ساری محنت لگا دیتے ہے ان کتابوں پر
مگر کچھ بھی ہاتھ نہیں آتا ہتھیلی پر



گزر جاتی ہےہماری آدھی زندگی پر
کوئی سرے سے بوجھ نہیں ہوتا ہم پر

پستا رہ جاتا اکیلا کمانے والا اسی آس پر
ایک دن تو ملے گا سکون اسی روش پر

رہ جاتا ہے پھر شاہین زمانے کے رحم و کرم پر
پر تو کاٹ دیتے ہیں لگاتا ہے امید پھر سے اگنے پر

کچھ اسی کو زندگی کہہ کر چل پڑتے ہیں اس راہ پر
جہاں سے واپسی ممکن نہیں ہوتی کسی بھی موڑ پر

اور پھر کچھ مجبور ہوجاتے ہیں ایسے کاموں پر
کرتا رہتا ہے ملامت ضمیر ساری زندگی جن پر

رہ گئی عشق معشوقی وہ تو چھوڑ دی ہے افسانوں پر
جو دکھتی ہے اس کا دار و مدار ہے نفسانی خواہشوں پر

آخر سب الزام کیوں ڈالتے رہتے ہیں زمانے پر
کرتوت تو ہمارے ہیں تو کیسا صلا آزمانے پر

بڑھو! چلو بڑھو! کرو! کچھ تو کرو اس ضمن پر
کہیں یہ نہ ہو پھر سب تکتے ہی رہ جایئں ہتھیلی پر

Sunday, 14 June 2015

محسوس کریں

محسوس کریں
                            نائیل 


آؤ ہم تم محسوس کریں
دل کی باتیں خوب کریں

زندگی کے دکھ درد دور کریں
اک دوجے کو ذرا قریب کریں

غموں سے ذرا اجتناب کریں
چاہت سے بیاباں سہراب کریں

انسانوں کی بستی میں کوچ کریں
رنگ ونسب کی ازسرنو کھوج کریں

ریت رواجوں سے پرہیز کریں
چین کی چاہ میں نئی راہ تلاش کریں



خودی کو بے خودی سے محفوظ کریں
رب کے تسبیح سے خود کو محظوظ کریں

پھر فلک پر اپنی نظر مرکوز کریں
بادلوں کی مستی سے چاندنی کو محفوظ کریں

تنہائی میں سب کچھ بھول جایا کریں
بس اک تم کو یاد رکھا کریں

سنیں! آپ ہمیں ایسے ٹوکا نہ کریں
ہماری حالت کو بھی سمجھا کریں

ہماری دل کی دھڑکن کو سنا کریں
یوں ہم سے منہ تو نہ موڑا کریں

ساتھ مانگنے کی جو بات کریں
پھر اس پر قائم بھی تو رہا کریں

آخر ہم کتنے گلے شکوے کیا کریں
آپ خود بھی تو کچھ سمجھا کریں




مجھے نہیں کیا ہورہا ہے. پتا نہیں کیوں میں اپنی اچھی عادتوں سے دور بھاگ رہا ہوں. ان اچھی عادتوں میں سے ایک اچھی عادت لکھنا بھی ہے مگر میں لکھنا چھوڑتا جا رہا ہوں. مگر میرے نہ لکھنے سے میرا نقصان کم اور دوسروں کا نقصان زیادہ ہوتا ہے. اور میں جس مقام تک چلا گیا اس کے بعد تو میرا نہ لکھنا کسی زیادتی سے  ہے. میں کوہشش کروں گا کہ میں واپس آؤں اور پھر سے وہیں سے شروع کروں جہاں تھا.