Thursday, 28 August 2014

امتحانوں کے دن

امتحانوں کے دن 

                        نائیل 






چلو آج پھر سے خوشیاں منائیں
دل کا دل سے میل ملائیں

ایک بار پھر سے وہ زمانہ جیئیں
کچھ یاد کریں اور کچھ یاد کرائیں

وہ امتحانوں کے دن تھے شاید
مصیبتوں کے دن تھے زائد

تیاری تو برائے نام ہی تھی
 زندگی بھی کسی کام کی نہ تھی


ہم کچھ عجیب تھے نقل کرنا تو ٹھیک
مگر پکڑے جانے کو اک جرم مانتے تھے

اتنا معلوم تھا کے بن ثبوت کے استاد بھی کچھ نہ تھا
اسی لئے بوٹی تو کیا اس کا نام-و-نشان نہ تھا

گزرا تھا پہلا پرچہ بہت ہی بھاری
دوسرے کا تو سرے سے سوال نہ تھا

دے کر پرچہ کی تھوڑی مستی
چونکہ لوٹنا سرعام نہ تھا

پھر پہنچے اسی جگہ جہاں کوئی کام نہ تھا
 میرا اور میرے رقیب کا کوئی گمان نہ تھا

ہمیشہ کی طرح ہانکنے لگے گپیں، کرنے لگے چرچے
گزرتے لمحوں کا ذرا بھی حساب نہ تھا


نجانے وہ کیسی آہٹ تھی
شاید ساری زندگی کی چاہت تھی

بےاختیار چل پڑا کہہ  کر خدا حافظ 
 ملنے ملانے کا وقت اب کام نہ تھا 

چل جو پڑے تھے اس کے دیدار کی خاطر
چونکہ چوکھٹ سے اس کی کچھ عیاں نہ تھا



قسمت کچھ ایسی چمکی جس کا حساب نہ تھا
دیکھ کر اس کو پھر سے سر اٹھا نہ تھا

آخرپھر وہی غصّہ کر گیا گھائل 
پھرکیوں نہ دیتا دل تو نائیل 

خوشیوں سے بھرے تھے باقی سب پل
پھر پیپروں سے بھی کوئی گلا روا نہ تھا


پھر خوب محنت کرنے لگے تھے ہم
منصوبہ جو کھونے کا جواں نہ تھا 

Sunday, 24 August 2014

اپنوں میں

اپنوں میں 

                   SAd 



کیوں ڈھونڈتا ہے خوشی کے لمحے؟ 
وہ ملتے تو بس اپنوں میں ہی ہیں

یہ پہاڑ، دریا اور سمندر روز دیکھتا ہے
پر  کھلتے  تو آخر اپنوں  میں  ہی  ہیں


عیدیں، شبراتیں سونی سونی سی لگتی ہیں
کیوںکہ اصلی خوشیاں تو اپنوں میں ہی ہیں

کیوں ادھر ادھر بھٹکتا پھرتا ہے
 آخر منزل تو اپنوں میں ہی ہیں

نجانے کیوں روزی کی خاطر دس بدیس بھٹکتا ہے
روکھی سوکھی کھانے کا مزہ تو اپنوں میں ہی ہے

چاہے لاکھ پریشانیوں میں گھیرا ہو میرا وطن
مگر جینے کا اصل مزہ تو اپنوں میں ہی ہے

جانے کس چیز کی تلاش ہے تجھے
ارے چاہت تو بس اپنوں میں ہی ہے


Wednesday, 20 August 2014

ہوس اقتدار

ہوس اقتدار

by SAd                 




آج پھر ہوس اقتدار نے ہی لوٹا 
اس نے آخر بے یارومددگار سمجھ کر ہی لوٹا 

عاشق تو تھا وہ کرسی کا فقط
نجانے کیوں خود کو انقلابی کھلوا کر ہی لوٹا 

نکلا تھا دلوانے نام نہاد آزادی 
ارے! سب کو آخر غلام بنا کر ہی لوٹا 

دکھاتا رہا سہانے خواب سب کو  
پر نجانے کیوں بے آبرو کر کے ہی لوٹا 

انجانے میں ہم بھی ساتھ دے بیٹھے مگر 
کیا کریں آخر اس نے رسوا کر کے ہی لوٹا 

اب کس کی آس لگائے گا میرا وطن 
آخر اپنوں نے ہی بیگانہ سمجھ کر لوٹا 

کہنے کو تو بہت کچھ ہے شاید 
مگر آخر ہم نے ہی سنا ان سنا کر کے ہی لوٹا 

ابھی بھی وقت ہے بچانے کا اس دھرتی کو نائیل 
ارے جاگ جا! نہیں تو پھر کہے اک جرنیل نے آ کر ہی لوٹا 




Wednesday, 6 August 2014

نئی محبت

نئی محبت

                 نائیل





چلو آؤ آج پھر تم کو اک کہانی سناؤں
عزت اور ذلت کی زبانی سمجھاؤں

دل تھا میرا اکیلا، ہو گیا گھائل

کچھ نہ سمجھا، بول گیا سائل

بےخودی میں بھی خودی کو ڈھونڈتا رہا جاہل
بہکا بہکی میں کر گزرا غلطی فاعل

کیا محبت، کیا عقیدت، کیوںکر کوئی راہ میں
 حائل
نفسہ نفسی کا عالم اور وہ تھے پہلے سے ہی قائل

یہ دنیا جھوٹی ہے، ڈھونڈتی ہے وسائل
یہ تو لذت ہے اور لذت کے مراحل

پاکیزگی بن گیا لفظ پرانا ساحل
ایک کے بعد دوجی، دوجی کے بعد تیجی

تیجی کے بعد چھوتھی

کیا یہ نہیں ہے نفرت کے لائق؟

شیطان تو تیرا اپنا نفس ہے کاہل
پھر دنیا کو کیوں کوستا ہے نائیل


میں نے یہ نظم چاند رات کو فجر کی نماز کے بعد لکھی تھی. اس دن میرا بہت جی کر رہا تھا کہ کچھ لکھو تو لکھ ڈالی. پھر مجھے ایک دوست نے اس کو اس وقت نہ شیر کرنے کا مشورہ دیا. اب یہ آپ ک سامنے حاضر ہے.  

Friday, 25 July 2014

خواب

خواب 
               SAd



تھا کافی دنوں سے  چپ چپ
شاید بندھ گئے تھے یہ ہاتھ 

سوچا کچھ لکھوں فلسطین پر 
پر جو بھی لکھا تھا سب بیکار 

ہمت نہ پڑی پڑھانے کی کسی کو 
بس اسی لئے ہی پڑی رہی بیکار 

یارو کیا بتاؤں میں تم کو حال فلسطین 
 بس دیکھ رات کو گیا ایک ہی خواب 

بیٹھیں ہے سب اپنی ہی موجوں میں 
اتنے میں ہی رول گئے سب خواب 

بجھی جو بتی لگا روشنی ڈھونڈنے 
چلنا کیا تھا جنریٹر نے تھا وہ ناساز 

تھک ہار کر ہمیشہ چڑھ گیا چھت پر 
 سوچا کھاؤں ٹھنڈی ہوا سحری کی بعد  

تھا اک عجیب سا سناٹا جو ہوتا گیا برباد 
دکھا جو ایک طیارے کو کرتے ہوے پرواز 

ہوا وسوسہ پیدا دیکھتے ہی اس کی پرواز 
ہوا نمودار پہاڑی کی سمت سے وہ دگاباز 

ہوا خوف طاری دیکھ کر قریب اپنے اس بار
وہ نہ تھا اپنا، تھا وہ کوئی اور ہی ہواباز 

بھاگا سیدھا لانے کو کوئی بڑا ہتھیار 
ملا کہیں سے اک پسٹل شاندار

وہی تھام کر چڑھ گیا میں تو چھت پر
 پسٹل تھام کر بن گیا تھا میں ملا خدمت پر



ہوا کچھ نہ فائدہ کرنے سے دو وار 
اتنے میں پڑی نظر پڑوسی پر یار 

تھا وہ طیش میں لئے بڑا ہتھیار
 اپنی بندوک بڑی ہوتے ہوئے تیار 

اسی وقت دیکھا اپنے بھائی کو مسجد سے آتے ہوے پڑھ کر نماز
دل ہی دل میں ہوا افسوس چھوڑ کر فجر کی جماعت

اترا سیڑھیاں کرنی تھی شاید یہی بات 
پہنچا جو بڑے  دروازے  پر دیکھا پھر ایک بڑا صیاد  

آیا اک گولہ پھر دوسرا یک بعد بار 
لگا آج گیا ہوں میں، پڑھنے لگا استغفار 

ہاتھ میں جو دروازہ تھا لگا قلعہ کوئی شاندار 
 کیا نہ ذرا بھی خیال (بھائی کا) بند کرتے ہوے دیوار  

پھٹا جو بم رستے میں تو ہوا کچھ دمدار 
اگے کچھ نہ پوچھو بس کرو تم  ہی خیال

کیا بچنا تھا ، کیا رہنا تھا 
 آخر تھا ہی سب کچھ فانی، ہونا تھا برباد  

کھولتے ہی آنکھ ہوا میں بے چین 
گزرے جو کچھ پل ملا یہ سبق دمدار 

کھو گیا ہے انسان دنیا میں بھول گیا سب فرمان 
نہیں سوچتا یہ آخرت کی زندگی ہے بڑی دردناک

ذرا دیکھ تو ذرا ہے راضی کوئی چھوڑنے کو کاروبار؟ 
کیا لڑے گا تو؟ کیا مرے گا تو؟ جب نفرت کے لائق ہے (تیرے لئے) جہاد 

کر بھروسہ رب پر اپنے پیدا کیے جس نے سب نباتات 
کیوں ڈھونڈا ہے کسی ڈھونگی کو؟ بنتا خود کیوں نہیں سپہ سالار؟ 

جو سمجھ لیا دین کو تو پا گیا تو ساری مراد 
دیکھ لے گا، تو سمجھ لے گا تو، کتنا رحیم ہے پروردگار 

چل آ قائم کریں نماز، ادا کریں حج، رکھیں روزہ، کیوں نہ دے دیں زکات 
ہے دین میں ہی کامیابی سن لے نامراد 



ہم اس وقت کسی مسیحا کے انتظار میں بیٹھے ہیں اور منافقوں کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں. اللہ نے قرآن میں بنی اسرئیل کو مخاطب کر کے کہا کے جب تم نے کتاب کو چھوڑ دیا تو میں نے تم پر عذاب کے طور پر دوسری قوموں کو تم مسلط کر دیا. ذرا آج دیکھ لی جئے ہمارا کیا حال ہے.

Sunday, 29 June 2014

عہد رمضان

عہد رمضان

                   (SAd special)





آؤ پھر عہد کریں اس رمضان
لڑیں گے نہ بھڑیں گے اس رمضان
پڑھیں گے پورا قران اس رمضان

رکھیں گے روزے, پڑھیں گے تراویح
کھائیں گے سحری، پئیں گے افطاری
کھل کے کریں گے سب اہتمام اس رمضان

کرتے رہیں گے مساجد کو آباد اس رمضان
پڑیں گے نہ ٹھنڈے گزرے گا جو آدھا رمضان
اٹھائیں گے جو مزہ ذکر خدا میں اس رمضان

سیکھیں گے دین کو، سکھائیں گے دین کو اس رمضان
پھیلائیں گے دین کو پورے جہاں میں اس رمضان
بھولیں گے نہ دین کو گزر جائے گا جو یہ رمضان

نکلیں گے جو گھر سے مسجد کے لئے اس رمضان
بھٹکتے پھریں گے نہ بازار ہم اس رمضان
کریں گے جو عبادت، پڑھیں گے جو نوافل اس رمضان

نہ دیں گے دھوکہ کسی کو اس رمضان
رکھیں گے جو نیتیں صاف اس رمضان
بڑھائیں گے نہ خود سے دام اس رمضان

چوری چکاری سے کریں گے اجتناب 
فلمیں ڈرامے نہ دیکھیں گے اس رمضان 
کیا ہم سنیں گے گانے اس رمضان؟

بغض، غیبت اور جھوٹ سے پرہیز کریں گے اس رمضان
دعوت شاوت اور دکھاوا شکھاوے سے بچیں گے اس رمضان
کرتے ہوۓ افطاری غریبوں کا بنائینگے دسترخوان اس رمضان

لے بھائی پھر سے آ گیا ہے رمضان
مانگ لے معافی، بنا لے نام اس رمضان
بھول جا دنیا، کر لے تو تیاری اس رمضان

کر لے رب کو یاد اس رمضان
ارے گڑ گڑا لے تو اس رمضان
پھر شاید موقع نہ ملے اگلے رمضان

آتا ہے جب بھی یہ رمضان
لاتا ہے نعمتیں بیشمار یہ رمضان
اٹھا لے فائدہ، نہ کر بے فرمانی اس رمضان

دے دے صدقہ، فطرانہ اور زکات اس رمضان
منا لے سب روٹھے رشتے دار اس رمضان
کیا سوچتا ہے، کیا یونہی گزار دے گا یہ بھی رمضان؟

ہے ابھی سانس باقی تو آس باقی
کب تک رہے گا آخر تو باغی
موقع ہے مانگ لے معافی اس رمضان

ہے وہ رب رحمان، ہے اسکی اونچی شان
بندے ہیں سب اسکے، رکھتا ہے وہ سب کا مان
فکر نہ کر معاف کر دیگا سارے گناہ اس رمضان


پتا نہیں میں اس کا شعرنہیں لکھ پا رہا. جب بھی لکھنے لگتا ہوں یہ نظم اور بڑی ہو جاتی ہے اور میری کوہشش تھی کہ میں اس کو مختصر رکھوں مگر اب ایسا  ممکن نہیں لگ رہا. اگر آپ اس میں کچھ شامل کرنا چاہتے ہیں تو ضرور مجھے اگاہ کریں.

شکریہ !!!

Wednesday, 25 June 2014

جی کرتا ہے

جی کرتا ہے  

                       SAd




جی کرتا ہے کہ پھر سے کر لوں عشق
پر دل کہتا ہے تو تنہا رہ جائے گی

جی کرتا ہے کہ پھر سے لکھ لوں کسی کا نام
پر دل کہتا ہے تو ریزہ ریزہ ہو جائے گی 

جی کرتا ہے کہ سامنے رکھ دوں ساری سچائی
پر دل کہتا ہے تو رسوا ہو جائے گی 

جی کرتا ہے کہ گزرا کروں انہی گلیوں سے
پر دل کہتا ہے تو دکھ (dikh) جائے گی 

جی کرتا ہے کہ جی ہی لوں یہ زندگی 
پر دل کہتا ہے تو گلا کرتی رہ جائے گی 


جی کرتا ہے کہ کھا لوں پھر سے دھوکہ
پر دل کہتا ہے تو شرمندہ ہو جائے گی

جی کرتا ہے کہ بھول جاؤں سارا کا سارا قصّہ
پر دل کہتا ہے یہ جاں چلی جائے گی

جی کرتا ہے کہ بس کاٹ لوں اس دنیا سے ناتا
پر دل کہتا ہے میری دھرتی ناراض ہو جائے گی 

جی جی ہے بار بار بدلتا رہتا ہے
 مگر من بھی اپنا ہے بس اسی سے سننا ہے

اور من کہتا ہے اب جوڑ ہی لے رب سے ناتا
کچھ اور نہیں تو شاید جنّت مل ہی جائے گی


Sometimes challenges back fire you. Today was this kind of the day. First, I had to made my mind then after that some body interfered that the plot I had in my mind was lost. And when the challenger met again then I thought about doing it then when I was about to post in my set criteria it was the constraints, constraints and constraints but still I was able to come up with this. Hope you will like it.... 

Thursday, 19 June 2014

Murabaha (Trade credit)

Murabah (Trade credit or loan)


       I want to write a small article on Islamic finance so I decided to focus on one area of Islamic finance i.e Murabah which is very similar to normal banking system and quite simple to understand as well. Before getting the overview of Murabah we'll first need to know that the key distinction between Islamic finance and conventional finance and what are the basic principles of Islamic finance?

Introduction to Islamic finance:-

       Actually, Islamic finance has the same purpose as other forms of business finance except that it operates according to principles of Islam. It is based on the rulings of Sharia on commercial and financial transactions. The main principles of Islamic finance are as under:-

- Wealth must be generated from legitimate trade and asset-based investment. The use of money for the purpose of making the money is forbidden.

- Investment should also have a social and an ethical benefit to wider society beyond pure return. 

- Speculations are prohibited in Islam.

- Interest is not allowed in Islamic finance instead it is replaced with cash flows from productive sources, such as returns from wealth generating investment activities.

- Trading in harmful activities like alcohol, gambling, drugs and sale of certain foods are forbidden in Islamic finance.

       The main sources of finance within Islamic banking model includes:-
1. Murabah. (Trade credit or Loan)
2. Ijara. (Lease finance)
3. Sukuk (Bonds)
4. Mudaraba. (Partnership or like equity finance)
5. Musharaka. ( Venture capital and business angels)

Definition of Murabah:-

  •        It is a particular kind of sale where the seller expressly mentions the cost of the commodity purchased and sell it to another person by adding some profit thereon. So it is not a loan given on interest; it is a sale of a commodity for cash/differed price.


Difference between normal loan and Murabah?

       Murabah is like trade credit or loan. The key distinction between a murabah and a normal loan is that with a murabah, the bank(for example) will take actual constructive or physical ownership of the commodity/asset which is then sold onto the the person (who wants to borrow/purchase the asset) for a profit . Note here that bank transfers the ownership of the asset to the borrower which means the borrower is actually becomes the owner of the asset but the main point is that he is allowed to pay the sum over a set number of installments like trade credit. The payment period could be extended but without any penalty or extra charge. The bank cannot claim any additional mark-up. Another point to notice in murabah is that if buyer wants to par early then early payments discounts are not welcomed and will not form the part of the contract although financier may choose (not contract) to give discounts. As interest is forbidden in Islam so it can't be charged on agreed sum as well. So in murabah, the borrower fixes the amount which he has to pay in exchange for the asset/commodity purchased.

Applications in daily life:-

       The Murabah form of financing is being widely used by the Islamic banks to satisfy various kinds of financing requirements. It is used to provide finance in various and diverse sectors e. g. in consumer finance for purchase of consumer durable such as cars and household appliances, in real estate to provide housing finance, in the production sector to finance the purchase of machinery, equipment and raw material etc. However, probably the most common and the most popular application of Murabah is in financing the short-term trade for which it is eminently suitable. Murabah contracts are also used to issue letters of credit and to provide financing to import trade.

Basic Rules for Murabah:- 


Following are the rules governing a Murabah transaction:


  • The subject of sale must exist at the time of the sale. Thus anything that does not exist at the time of sale cannot be sold as this makes the contract void.
  • The subject matter should be in the ownership of the seller at the time of sale. If the seller sells something that he himself has not acquired, then the sale becomes void.
  • The subject of sale must be in physical or constructive possession of the seller when it is sold to another person. Constructive possession means a situation where the owner has not taken physical delivery of the commodity yet it has come into his control and all rights and liabilities of the commodity are passed on to him including the risk of its destruction.
  • The sale must be instant and absolute. Thus a sale attributed to a future date or a sale contingent on a future event is void.
  • The subject matter should be a property having value in the eyes of Shari’a.
  • The subject of sale should not be a thing used for an un-Islamic purpose.
  • The subject of sale must be specifically known and identified to the buyer. For Example, ‘A’ owner of an apartment building says to ‘B’ that he will sell an apartment to ‘B’. Now the sale is void because the apartment to be sold is not specifically mentioned or pointed to the buyer.
  • The delivery of the sold commodity to the buyer must be certain and should not depend on a contingency or chance.
  • The certainty of price is a necessary condition for the validity of the sale. If the price is uncertain, the sale is void.
  • The sale must be unconditional. A conditional sale is invalid unless the condition is recognized as a part of the transaction according to the usage of the trade.



This article contains some material from the following sources:-

-Kaplan textbook f- 9 Acca.
-Meezan bank site (http://www.meezanbank.com/murabaha.aspx)

Wednesday, 18 June 2014

دل نہیں لگتا

دل نہیں لگتا 

                      نائیل


  
دل نہیں لگتا، جان جلتی ہے
جب بھی پھولوں کی پتیوں سے تیرا نام لکھتا ہوں

چین نہیں آتا، دل دکھتا ہے
جب بھی تجھ کو یاد کرنے کی آرائش کرتا ہوں

کلیوں کی خوشبو بھی ماند پڑتی ہے
جب بھی تجھ کو پانے کی سازش کرتا ہوں

تنہا! نجانے کیوں تنہا رہ جاتا ہوں
جب بھی تجھ کو چھونے کی کوشش کرتا ہوں

ہر نگر ہر ڈگر مارا مارا پھرتا ہوں
جب بھی تیرے آستانے کی سفارش کرتا ہوں



کیا شہر! کیا محلہ! ہر جگہ بھول جاتا ہوں
جب بھی تجھ سے ملنے کی خواہش کرتا ہوں

سارے گلے شکوے یکسر بھول جاتا ہوں
جب بھی فضاؤں سے تیری باتیں کرتا ہوں


  

بس یوںہی سر راہ کاغذ قلم ڈھونڈنے لگتا ہوں
جب بھی تیری غزل کی زیبائش کرتا ہوں

آخر میں خود ہی رب کا شکر ادا کرنے لگتا ہوں
جب بھی تجھ سے بچھڑنے کا قصہ تمام کرتا ہوں


 زندگی میں پہلی بار کسی فٹ پاتھ پر بیٹھ کر کچھ لکھا تھا اور  سے اس میں تھوڑی سی اردگرد کی منظر کشی کرنے کی کوہشش کی ہے. اصل میں وقت بوہت کم تھا اور عجیب بھی لگ رہا تھا اسی جلدی جلدی میں لکھ دی. امید ہے آپ کو پسند آۓ گی .

Friday, 16 May 2014

کیسے باتیں؟

کیسے بتائیں

               نائیل 




کیسے بتائیں کہ دل پر کیسے چھریاں چلتی ہیں 
چیر کر ہمارا کلیجہ سینے سے آر پار ہوتی ہیں 
پھر یوں ہی تو نہیں دل سے آہیں نکلتی ہیں
پھر یوں ہی تو نہیں ہم سے بدعائیں نکلتی ہیں
کیوں کوئی تیرا نام لیتا ہے
آخر کیوں کوئی اتنا ظلم کرتا ہے 



معلوم بھی ہے ہم پر کیا بیتتی ہے
یونہی تو نہیں یہ زندگی چلتی ہے
نام تیرے میں کیا رکھا
یاد تیری، ہاں یاد تیری
 پھر سے دیہ جلاتی ہے

ہم نے تو ابھی بھی ہمت نہیں ہاری
ہم نے تو کبھی دہائی نہیں ڈالی
مگر وہ تیری بھولی صورت
وہ تیری نازک چنچل سی ادا
ہمیں پھر سے واسطہ دیتی ہے

ارے نہیں کرنا عشق 
ارے نہیں پانا تجھے
 نہیں پڑھنے تیرے قصیدے


یہ عشق ہی سب کچھ نہیں ہوتا نائیل! 
عزت ہاں عزت بھی کبھی آڑے آجاتی ہے 

دیکھ نائیل! یہ دنیا کیسے کیسے کھیل کھیلتی ہے 
آخر فساد کی جڑ ہی نیا راگ سنانے آجاتی ہے 




Oh great 20 mints again. It looks like I am making a habit of writing these in 20-30 mints.  

Friday, 14 March 2014

سو گیا انسان

سو گیا انسان        

 SAd special                        





سو گیا انسان
ہو گیا بےایمان
بیچا جو ایمان

تو لوٹ گیا پاکستان
سو گیا انسان، ہو گیا بےایمان

بٹا ہے یہ مان
چاہے بلوچی ہو یا پٹھان
لی ہے اسنے ٹھان
ہوگا بس لہولہان
سو گیا انسان، ہو گیا بےایمان 

کیا کہوں میرے جوان
ہو گیا تو عشق معشوقی میں قربان
 جب لگے گی سردھڑ کی بازی
تو کیا دے گا تو اپنی جان
سو گیا انسان، ہو گیا بےایمان

ہے میڈیا تیری آنکھیں
اور تیرے کان
جو سمجھ گیا تو
تو ہے بڑا سیاست دان
سو گیا انسان، ہو گیا بےایمان

لگا ہے نعرہ کریں گے تعلیم عام
جب سکھائیں گے ڈانس
اور گائیں گے گیت مہان
تو کیا کرینگے یہ نام
سو گیا انسان، ہو گیا بےایمان


ہے نیا دور نئی کمان
دے دے اس کو تو سارا سامان 
جب سیکھے گی چیٹنگ
کیسے پلے گی ننھی جان
سو گیا انسان، ہو گیا بےایمان

بھولی بھالی ہے عوام
چنتی ہے اپنا حکمران
جب رکھتی ہے برادری کی آن
تو کیا چڑھے گا ملک پروان  
سو گیا انسان، ہو گیا بےایمان

کیا بتاؤں تم کو داستان
ہر کوئی بنتا ہے بڑا باایمان
کرتا ہے خود دو نمبری
اور کوستا ہے حکمران
سو گیا انسان، ہو گیا بےایمان

ہے قائد کا فرمان
کام، کام اور بس کام
 رکھا ہے قوم نے ایسا مان
ہوئے سب فرست سے بے آرام
سو گیا انسان، ہو گیا بےایمان

بینکاری کا یہ نظام
ہیں اس سے سب پریشان 
پستے رہیں گے سود کی چکی میں
جب تک لاتے نہیں نیا نظام
سو گیا انسان، ہو گیا بےایمان

ہے کمپنی کی ہر چیز ران
چاہے پتی ہو یا کان
لوٹ! لوٹ! جیسے حق ہے تیرا
کر دے تو اس کو گنجان
سو گیا انسان، ہو گیا بےایمان

دیا جو چندہ تو کردیا بڑا احسان
جتا جتا کے بتا سب کو اپنی اونچی شان
بتا آخر کیا چاہتا ہے اب تو
کہے تو سوالی پر دوں تانگ
سو گیا انسان، ہو گیا بےایمان

سنا تھا کے صفائی ہے نصف ایمان
تھوک تھوک بنا دیا سڑکوں کو پاندان
وطن کا نام تو پاک تھا
نجانے کیوں بنا دیا اسکو کوڑا دان
سو گیا انسان، ہو گیا بےایمان

لو پھر آ گیا رمضان
بڑھا دیے سارے دام
رکھا جو روزہ اس ماہ صیام
بھول گیا باقی سب کام سرعام
سو گیا انسان، ہو گیا بےایمان


اک ہے بھائی طالبان
لیتا ہے مسجد میں جان
چڑھا کے بلی مسلمانوں کی
پورا کرتا ہے اپنا ایمان  
سو گیا انسان، ہو گیا بےایمان

ہے میری فوج مہان
اونچا تھا اسکا نام
لگی جو لت حکومت کی
کیا رہ گئی اسکی شان
سو گیا انسان، ہو گیا بےایمان

سنبھالی ہے چند لوگوں نے کمان
 نفرت اور انتشار پھیلانا ہےانکا کام
 ہیں تو ویسے پیسے کے پجاری
نجانے کیوں لیتے ہیں مذہب کا نام
سو گیا انسان، ہو گیا بےایمان

مسجد سے بلند ہوئی اذان
دیا نہ ذرا بھی دیہان
 سن سن کر ناچ گانا
بنتا ہے سچا مسلمان
سو گیا انسان، ہو گیا بےایمان

نہیں تھا ڈوبا تو تھا انجان
لوگوں کی باتیں اور انکے احکام 
پھر جو رکھا جو قدم سرعام
 کھل گئے سارے راز سنسان
سو گیا انسان، ہو گیا بےایمان

ہے یہ دنیا ایک امتحان
عاجزی اور انکساری کامیابی کا نشان   
بغض، کینہ اور جھوٹے گمان
آخر کیوں چلتا ہے سینہ تان
سو گیا انسان، ہو گیا بےایمان

اتارا جو رب نے فرقان
کر دیا سب کچھ بیان
پھر کیوں لڑتا ہے بتا
 کیوں نہیں سمجھتا لالے کی جان  
سو گیا انسان، ہو گیا بےایمان

اب تو سمجھ جا نادان
کب تک رہے گا تو مہمان
لے پھر سے ہوش کے ناخن انام
چل بن جا جانور سے انسان
سو گیا انسان، ہو گیا بےایمان

ہے وہ ہستی عالیشان
ہے وہ آخر رحمان
جھکا دیا جو سر سجدے میں
بس ہو گیا آخرت کا سامان 
سو گیا انسان، ہو گیا بےایمان


   میں نے اس نظم میں اپنی قوم کی حالت پر روشنی ڈالنے کی کوہشش کی ہے. یہ بتایا ہے کے ہمارے قول اور فعل میں تضاد ہے. یہ دیکھنے میں تو سیدھی سادہی ہے پر اسکو سمجنے میں آپ کو عرصہ لگے گا. اسکو جتنے بار پرہیں گے اک نیی چیز سامنے ہو گی. یہ پہلی نظام ہے میری جس کو میں نے پندرہ منٹ کا ٹائم فریم سامنے رکھ کر نہیں لکھا. اس سے پہلی جتنی بھی نظمیں ، غزلیں اپ نے دیکھی وہ ١٥ سے ٢٠ منٹ مے لکھی گی ہے اور کاش تو ١٥ منٹ مے پکترے سمیت آپ کے سامنے تھی. میں ابھی سیکھ رہا ہوں یہ تو بس آغاز ہے.
   
یہ میری آخری نظام/غزل ہے جون تک ک لئے. اس عرصے ک دوران میں مصروف ہونگا اور اسی لئے گوگل پر آن لائن نہیں ہو سکون گا. جیسا کے آپ جانتے ہیں میں اکاؤنٹنٹ بن رہا ہوں اور جلد سے جلد اپنی تعلیم مکمل کرنا چاہتا ہوں اس لئے میں  کہانیاں لکھ نہیں پا رہا. خیر انشاءاللہ جون کے بعد یہ سفر یہیں سے شروع ہو گا. تب تک کے لئے الله حافظ !