Saturday, 20 October 2018

میرا یار میکو رسیہ

میرا یار میکو رسیہ
                                 نائیل


میرا یار میکو رسیہ رسیہ١ رسیہ! رسیہ!
میرا یار جد دا رسیہ میں جگ توں رسیہ
جگ بڑا منایا منایا منایا منوں منایا
پر میرا یار میکو رسیہ میں جگ توں رسیہ
میرا یار میکو رسیہ رسیہ١ رسیہ! رسیہ!
میرا یار جد دا رسیہ میں جگ توں رسیہ

کدی کدی جد میں اکھ میٹاں تے انجوں نے ڈگ دے
انجوں کی ڈگ دے ارماں میرے نے رل دے 
رات کالی اوتوں سیاہ خواب نے دکھ دے
دن سویرے سارے کالے یار بن سونے سونے نے دکھ دے
میرا یار میکو رسیہ رسیہ١ رسیہ! رسیہ!
میرا یار جد دا رسیہ میں جگ توں رسیہ

میں اک واری جیا یاں لاکھ واری مریا
میں ہر واری رب کولوں رحم ہی منگیا
نہیں منگیا تے فیر کدی یار نوں نہ منگیا
یار ہن کسے ہور دا میںوں عشق دا جوش کداں چڑھیا
میرا یار میکو رسیہ رسیہ١ رسیہ! رسیہ!
میرا یار جد دا رسیہ میں جگ توں رسیہ

دوہائیاں پا پا میں جاں اپنی کھپائی
لڑائیاں توں لڑائیاں پائی ماں اپنی ستائی
جنت اپنی گنوائی دوزخ وچ رہ گئی رسوائی
فے وی سہنی پے گئی جدائی مہنگی پے گئی جدائی 
میرا یار میکو رسیہ رسیہ١ رسیہ! رسیہ!
میرا یار جد دا رسیہ میں جگ توں رسیہ


Saturday, 22 September 2018

نرالا

نرالا

                    (SAd)


اکثر میرا جی چاہتا ہے کہ کوئی ایسا ہو
جو مجھ سے میرے وجود کا سوال پوچھے

جو مجھ سے میرے غم کا سوال پوچھے
جو مجھ سے میرے دل کا حال پوچھے

کوئی ایسا ہو جو میرے ربط کی مثال پوچھے
مجھ سے میرے صبر کی انتہا پوچھے

میں بیزار ہوں، میں لاچار ہوں
میں بے اختیار ہوں، میں خطاکار ہوں

میں بے درد ہوں، میں بے ضرر ہوں
میں بے وفا ہوں، میں گناہگار ہوں

میں جو بھی ہوں، جیسا بھی ہوں
جہاں بھی ہوں، ایسا کیوں ہوں

کوئی تو ایسا ہو جو مجھ سے
میرے ہونے نہ ہونے کی روداد پوچھے

اس دنیا کا ہر شخص نرالا ہے
اس کا رنج و الم نرالا ہے

اس کے چلنے پھرنے کا ڈھنگ نرالا ہے
اس کے جینے مرنے کا رنگ نرالا ہے

اسکی شناخت کا انگ نرالا ہے
اسکی شخصیت کا سنگ نرالا ہے

جیسے دنیا کا ہر شخص نرالا ہے
ویسے اس دنیا میں میں بھی نرالا ہوں

میں جو بھی ہوں، جیسا بھی ہوں
جہاں بھی ہوں، جیسے بھی ہوں

میں باقی سب جیسا نرالا ہوں
میں نرالی دنیا میں نرالا ہوں

Thursday, 16 August 2018

زخم ، زخمی

زخم، زخمی
                           نائیل


جو زخم تھا کبھی بھرا نہیں
جو زخمی تھا پھر کبھی ملا نہیں

جو طوفاں تھا کبھی تھما نہیں
جو تھما تھا پھر کبھی بپھرا نہیں

تخت و تاج کبھی کسی کو سجا نہیں
جو سجا تھا پھر کبھی دکھا نہیں

جو کمزور تھا کبھی جھکا نہیں
جو جھکا تھا پھر کبھی اٹھا نہیں


رنگ حنا کبھی اسے چڑھا نہیں
جو چڑھا تھا پھر کبھی اترا نہیں

ناز و نخرہ کبھی سہا نہیں
جو سہا تھا پھر کبھی ہم سر رہا نہیں

دشت تنہائی میں کبھی کوئی ملا نہیں
جو ملا تھا پھر کبھی ہم سفر رہا نہیں

میرا رقیب مجھ سے کبھی بچھڑا نہیں
جو بچھڑا تھا پھر کبھی ہم زاد رہا نہیں

Sunday, 15 July 2018

صنم

صنم  

                 SAd




صنم  کی تلاش میں
صنم  کے  شہر گئے

صنم نہ ملا
کچھ نہ ملا

دکھ اتنا ہوا کہ
چین و قرار کہیں نہ ملا

صنم کی یاد بہت آئی

آنکھ تک بھر آئی

لاکھ سمجھنا چاہا

سمجھ پھر بھی نہ آئی

دن بدن درد بڑھتا گیا

گپت راز الجھتا گیا

اپنے ہمدرد بنے

دوست رہبر بنے

مگر ہم عشق کے ہاتھوں مجبور

ذرا بھی شفیق نہ بنے

کبھی اس سے خفا ہوئے

کبھی اس سے خفا ہوئے

تنہا زمانے بھر سے بیزار

غم سے چور میخانے آباد ہوئے

بہت بہت شرمسار ہوئے

جگ سارے میں رسوا بدنام ہوئے

حتیٰ کہ  بے خودی میں ڈوب گئے

خوشی غمی سب بھول گئے

وقت پھر ایسی نہج پر لے آیا 
کہ زندگی اک فسانہ بن گئی

صنم صنم کی پکار
دیدار کا بہانہ بن گئی

گر جب موت کا وقت قریب آیا
خیر خواہ تلخ منظر سہار نہ پایا

بستر مرگ کا پیغام صنم تک پہنچایا
بے رخی بھرا جواب اہل فہم سے چھپ نہ پایا

سلاٍٍ رحمی بھرا جواب بن نہ پایا
افسانہٍ عشق تحریر بن نہ پایا

فقط صنم کی بے رحمی
صنم کے ملال کا سبب بن گئی

صنم صنم کی پکار
میری ذات کا شاخسانہ بن گئی


TRY TRY AGAIN :D:DDDD

Friday, 6 July 2018

خط

خط
                    نائیل





آج کچھ لکھنے کا دل چاہا
سوچا تمھارے خط کا جواب لکھ دوں

کمبخت! تمہارا خط ہی نہ آیا
مجھ سے جواب بن ہی نہ پایا

Sunday, 15 April 2018

فوجی جوان

فوجی جوان

                    SAd Special




میں فوجی! فوجی جوان ہوں
بہادراور سخت جان ہوں

مضبوط مثل چٹان ہوں
دشمن پر بھاری سرطان ہوں

سرحدوں کا محافظ
وطن پر جانثار ہوں

میں فوجی! فوجی جوان ہوں
بہادراور سخت جان ہوں

پاک فوج کی آن
ملک کی شان ہوں

محبت الفت کا ترکھان ہوں
محنت مشقت کا دربان ہوں

نظم و ضبط سے لیس
ہمہ وقت چوکس اور تیار ہوں

میں فوجی! فوجی جوان ہوں
بہادراور سخت جان ہوں

جان ہتھیلی پر رکھ کر
لڑنے کو بے تاب ہوں

دہشت گردی کی جنگ میں
سیسہ پلائی دیوار ہوں

اپنوں، سپنوں سے دور
میں کروڑوں دھڑکنوں کا معمار ہوں

میں فوجی! فوجی جوان ہوں
بہادراور سخت جان ہوں

میں چاہے سندھی ہوں
یا بلوچستان ہوں

میں چاہے پنجابی ہوں 
یا پٹھان ہوں

میرا مسکن پاکستان
اور میں پاکستانی بلوان ہوں 

میں فوجی! فوجی جوان ہوں
بہادراور سخت جان ہوں

میرے سامنے کوئی بپھرا طوفان ہو
یا کوئی جنگل سنسان ہو

دریا کی موج مہلک
یا صحرا کی تپش ہلکان ہو

فضل الہی جب ساتھ تو
ہر امتحان میں منصور و کامران ہوں

میں فوجی! فوجی جوان ہوں
بہادراور سخت جان ہوں

Saturday, 7 April 2018

قصہ

قصہ
                             نائیل




ہائے! کیا سناؤں
اس پری کا قصّہ

جس کی اک مسکان سے
میری صبح کھل جاتی ہے

جس کے آنے سے
میری سانس رک جاتی ہے

نجانے کتنا روشن ہے
اس کا چہرہ

جو اسکی اک جھلک سے
مجھے راحت مل جاتی ہے

بڑی مدت سے چاہ ہے
اس کو پانے کی

مگر دقت بس اتنی سی ہے
کہ چاہ کر بھی اس کو پا نہیں سکتے

دل لگا کر بھی
اس کو بتا نہیں سکتے

شاید اس کو معلوم بھی ہو
مگر پھر بھی کبھی جتا نہیں سکتے

اکثر نظریں ملاتے، نظریں چراتے
ہم پکڑے جاتے ہیں

آتے جاتے سامنے
اسی کو پاتے ہیں

کبھی سوچتے سوچتے تھم جاتے ہیں
کبھی کہتے کہتے لب سی جاتے ہیں

شاید اسلئے کہ ہم سہم گئے ہیں
غم معارفت میں بہک گئے ہیں

اور کچھ زمانے کے اصول بھی
ہماری چاہت کی زنجیر بن گئے ہیں

کیا یہ سلسلہ ایسے ہی چلتا رہے گا
جواب سننے کو کان ترس گئے ہیں

دنیاوی قانون ضابطے انسان بناتے ہیں
کیا انکو بدلنے سے انسان دھک گئے ہیں

قصہ مختصر سہی مگر جامع ہے
کیونکہ زندگی کا مقصد واضح ہے

پھر کیوں ہم پڑھ لکھ کر بھی جاہل ہیں
اور ہمارے ضمیر ہماری طرح کاہل ہیں

کچھ بدلنا ہے تو خود کو بدلو
سوچ بدلو، سماج بدلو

ورنہ خود بدلے بغیر
دنیا بدلنا بیکار ہے

کیونکہ ہماری دنیا ہم سے شروع
اور ہم پر ہی ختم ہے

ہم ہیں تو ہماری دنیا ہے
اگر ہم ہی نہیں تو یہ سب بیاباں ہے

اور" ہم" کیا ہوں؟
ہم بندہ خدا وند ہیں، بندہ خدا وند ہیں....

Saturday, 7 October 2017

زیست کی سچائی

زیست کی سچائی

                                     نائیل 



جس دن سے ہم
تو سے تم
تم سے آپ
آپ سے اجنبی ہوئے
اسی دن سے
میخانے سب آباد ہوئے
ہم اتنا بکھرے کہ
ہر شہ سے بیزار ہوئے
دل لگی کی ایسی سزا ملی
کہ زمانے بھر میں رسوا شرمسار ہوئے
گر جینا محال تھا، ملنا ناگوار تھا
نفسہ نفسی کا عالم، بندہ بےبس لاچار تھا
فقط ہم ایسے ڈوبے... ایسے ڈوبے کہ
بد سے بدی تک بدنام ہوئے
محبت میں چوٹ ہی تو کھائی تھی بس
نجانے کیوں چین کی چاہت میں خوار ہوئے
بلآخر زیست کی سچائی سمجھے تو معلوم ہوا
سب کچھ پا کر بھی نت نئی خوہشات کا شکار ہوئے

Sunday, 17 September 2017

گمشدہ

گمشدہ
             نائیل






تلاش ہے اک گمشدہ کی
دعا ہے یونہی کبھی مل جائے

جو مل جائے تو
تو یاد کا سوال اٹھ جائے

اور جواب ہو کہ
یاد تو ذرا برابر نہیں آتی

ہاں مگر جب کبھی گنگنانے کا من ہو
تو ذکر اسی کا بزباں ہوتا ہے

جب کبھی فضا میں اداسی چھائے
تو عنوان اسی کا رواں ہوتا ہے

جب کبھی کوئی پکار لگے
تو گمان اسی کا جواں ہوتا ہے

جب کبھی غزل کی آمد ہو
تو مطلع مقطع اسی کا بیاں ہوتا ہے

اور جب کبھی دل دکھے
تو نام اسی کا بدنام ہوتا ہے

پھر سوال اٹھے کہ
کیا محبت اب بھی باقی ہے؟

جواب ہو کہ نہیں
شاید اب محبت نہیں رہی

کیونکہ اب کسی اور کو
اپنانے کا خیال آتا ہے

مگر جب کبھی ایسا خیال آئے
تو چہرا اسی کا عیاں ہوتا ہے

جب وہ تھی تو
سب کچھ پانے کی چاہ تھی

مگر اب جب وہ نہیں تو
بس شام ڈھلنے کی چاہ ہے

کہنے کو تو سب کچھ پاس ہے
مگر جو اسکا ساتھ نہیں تو سب خاک ہے

سچ کہتا ہوں تلاش ہے اک گمشدہ
دعا ہے یونہی کبھی مل جائے

Saturday, 15 July 2017

خام خیالی

خام خیالی
                             SAd Special


اک کڑی میرا دل لے گئی
چوری چوری
چپکے چپکے
سب کہہ گئی

رات دے پہرے
میرے نال بیہ گئی
اکھاں وچ اکھاں پا کے
جان لے گئی

ساری خماری
جزباں وچ بہہ گئی
اوندی بیماری
بڑی پیڑی پیہ گئی

یقین نہیں سی
کدی چھڈ کے جاوے گی او
سویرے سویرے
خواباں نال بے خوابی پیہ گئی

دونڈھ دے رئے
ساری دیاڑی او نوں
شام پیندے ای
نظراں سامنے آ گئی

بڑا پوچھیا
فیر وی ہمیشہ ٹال دی گئی
کتھوں آئی کتھے گئی
سانوں بے چینی پیہ گئی

لوکاں سنیاں تے بڑا کییا
تینوں وہماں نال یاری پیہ گئی
اسی ٹھہرے منڈے کھنڈے
سانوں یار دی مدہوشی لے گئی

چل دا ریا ملاقاتاں دا سلسلہ
بڑھ دا گیا عشق تلتلا
ہائے دل وچ خیال جیا پیا
مندری وکھان اونوں نال لے گیا

سنیارا ذرا جیا تلملایا
پاگل کہہ کے مینوں تھوڑا جیا جھٹلایا
غصّے وچ مینوں وی کچھ  نہ سوجھیا
اخیر لڑدا لڑدا گھر خالی ہتھ آ گیا

خیر بعد وچ دوست یار وی تھوڑے کترائے
گھار والے تے سرے توں ہو گئے پرائے
تھک ہار جدھوں اونوں کول بٹھایا
ہاتھ پیر پھل گئے مگر سوال ذہن وچ نہ آئے

خیر اکھاں وچ اکھاں پا کے سوال پچھیا
'تو ہیں کہ نئ  دس ذرا لوکاں پاگل کہہ کہ بڑا ستایا'
سن دے سوال ہسن لگ گئی
میری بے چینی ہور ودھ گئی

ہس دی ہس دی چپ ہو گئی
پھیر کی سی گلستان وچ تباہی مچ گئی
بولی کہ میں اک خیال آں تیرا
تنہا رہن دا جواب آں تیرا

جے تو چآویں تے ساتھ آں تیرا
نئ تے اک خواب آں تیرا
میں بذات خود کجھ وی نئ
سوچ آں تیری تے سوچ دی تصویر آں تیری

سن دے جواب پیراں تھلوں زمین جئی نکل گئی 
سپناں دی لڑی طوفاناں نال بہہ گئی
اک جان ای بچی سی اوی منگ لئی
پکھے نال لٹکی صرف میری لاش ہی رہ گئی

جنازہ چھوٹا سی یاں وڈا
اے خام خیالی رہ گئی
میری محبت ہمیشہ لئی
لوک داستان بن کے رہ گئی


Phew! Please ignore spelling mistake and it was quite tough to write in Punjabi but I enjoyed and Indeed I hope it will be a treat to read...

Saturday, 8 July 2017

اسطور

اسطور

                          SAd



رنگ تھا، نور تھا یاں دل کا فتور تھا
جو بھی تھا، عشق کا عروج تھا

ہجر قسمت تھی، کس کا کیا قصور تھا
دل کش، دیدہ زیب اس کا غرور تھا

شاید میں بھی تھوڑا مغرور تھا
ورنہ آخری بار ملنا کسے نا منظور تھا

گر رویا کم مگر تڑپا بہت
اس کی یاد میں جو مخمور تھا

خدا ہی جانے کون کہاں منصور تھا
حالانکہ صحبت میں خاموش رہنا دستور تھا

کہتے تھے ملا مسجد میں اور عبدللہ مجلس میں
گویا نماز میں خالی امام معمور تھا

یوں تو چپ سادھ لینا کسے منظور تھا
بیچارہ سماج کی زنجیروں میں تنور تھا

چنگیز خان! وہ کتنا غیور تھا
مگر وہ بھی خواہشات کے آگے مجبور تھا

اس آگ کی تپش کتنی ہوگی
فقیرابھی اسی بات پر مدور تھا

گر خاطب اپنے خطاب میں مسرور تھا
مگر سامع گھٹنوں کے درد میں چور چور تھا

بلا شبہ موضوع بڑا مرغوب تھا
مگر صبح کا ظہور ظہور تھا

قصہ بستی بستی مشہور تھا
اناڑی ہر جگہ مفرور تھا

شاید میرا قلم کچھ دن سکوت تھا
مگر میرا علم ہمیشہ اسطور تھا

Sunday, 11 June 2017

تنہا

تنہا
                   نائیل


ایک خیال مجھے جینے نہیں دیتا
تیرا خمار مجھے پینے نہیں دیتا

روز شب تنہا یہی سوچتا ہوں
کیوں کوئی تنہا جینے نہیں دیتا

کیوں کوئی تنہا ہسنے نہیں دیتا
کیوں کوئی تنہا مرنے نہیں دیتا

جب کبھی رونے کا من ہو
کیوں کوئی تنہا رونے نہیں دیتا

اکثر میں تنہا انجان راہوں پر نکل جاتا ہوں
دن ہو یا رات بن منزل بھٹک جاتا ہوں

جب چلتے چلتے تھک جاتا ہوں
خدا کی قدرت میں سموع  جاتا ہوں

دنیا کی نفسہ نفسی بھی پر امن لگتی ہے
دل کی بے ہنگم روداد بھی چمن لگتی ہے

جہاں انجان راہ بھی آسان لگتی ہے
وہیں میری زندگی اکثر مجھے بے جان لگتی ہے

بن مقصد جینا بھی کوئی جینا ہے؟
بن مقصد جینے کی قیمت طوفان لگتی ہے

جہاں واپسی کی راہ ویران لگتی ہے
وہیں چاہت کی چاہ گلستان لگتی ہے

رستہ چاہے کتنا بھی کٹھن ہو
منزل ہمیشہ آسان لگتی ہے

اگر محبت تجھے امتحان لگتی ہے
وفا کی بات مجھے گمان لگتی ہے

مگر تیرے بنا جھومنے کی آس
تنہا جینے کی پیاس پشیمان لگتی ہے

Sunday, 21 May 2017

جان میری سلگ رہی ہے

جان میری سلگ رہی ہے
                               
                                          SAd



ہوا کی بیٹی جل رہی ہے                             جان میری سلگ رہی ہے

شان ظالم کی بڑھ رہی ہے                          ماند قسمت پڑ رہی ہے

نفسہ نفسی بڑھ رہی ہے                             مانگ کفر کی بھر رہی ہے

گر دنیا کی حالت بگھڑ رہی ہے                   شیطان کی پرستش جو چل رہی ہے


قش میں بڑی چس آرہی ہے                        باپ کی دولت نشے میں اڑائی جا رہی ہے

بوتل پر بوتل کھلتی جا رہی ہے                   عزت پر عزت قربان کی جا رہی ہے

نوٹ دکھا کر دوستی پل رہی ہے                  نام نہاد محبت کی کنجی الجھ رہی ہے

انسان کی انسانیت گھٹ رہی ہے                  ایمان کی پیاس بجھ رہی ہے


گیان کی بولی لگ رہی ہے                         کمسن کی تباہی چل رہی ہے

گولیوں کی آواز گونج رہی ہے                    سکول کی چھت (خون سے) بہہ رہی ہے

استاد کی لاش کندھے پر اٹھائے                 علم کی شمع بجھ رہی ہے

بے حسی کی انتہا ہے                               خود غرضی، من مرضی چل رہی ہے


پیسے کی لت ایسی لگی ہے                        جان کی قیمت بھی نہیں رہی ہے

رات ساری دکان کھلی رہی ہے                   عید کی نماز بھی چھوٹ رہی ہے

چوک پر گاڑی کی ٹکر کیا ہوئی                 اخلاق کی تربیت بھی بھول رہی ہے

جیب پیسے سے بھری ہے                         حرام کھانے کی عادت بھی پڑ رہی ہے



چہرے پر داڑھی سج رہی ہے                     ملا ملا کی آواز گونج رہی ہے

مسجد سے اذان بلند ہو رہی ہے                    نماز کی پابندی بھول رہی ہے

دفتر جانے کی جلدی بڑی ہے                     زمانے بھر کی لعنت گلے پڑی ہے

گھر باہر سب سے بیگانگی ہے                  چاندنی کی جوانی مدہوش جو بڑی ہے


ادھر ماں کی آنکھ لگ رہی ہے                  سرہانے بیٹھی بیٹی ہس رہی ہے

موبائل کی لائٹ جل رہی ہے                     تیسرے پہر آن لائن محفل جو سج رہی ہے

ظہر کی آمد آمد ہے                                مگر میری آنکھ پھر بھی بند پڑی رہی ہے

رات ساری مشغلوں میں گزری                   نیند کی کمی کھٹک رہی ہے


زندگی کی اک پہیلی بن رہی ہے                 معاشرے میں برائی پنپ رہی ہے

میم صاحب نے گوچی کا پرس ہے تھاما       مگر فلاح و بہبو کی بات چل رہی ہیں

لاکھوں کی تنخواہ ہے لیتیں                       مگر غربت کی چکی میں پس رہی ہیں

مظلوم کی آواز ہے اٹھاتی                         مگر خود ظالم بن رہی ہے


زمانے بھر میں مشہور                             آج پاکیزہ بن رہی ہیں

مگر بھٹے پر مزدور ماں                          مدد مدد کی صدا لگا رہی ہے

سارا دن محنت مشقت کرتی                       رات کو شوہر کی مار سہ رہی ہے

کبھی باپ، کبھی اولاد کی خاطر                 ظلم کو پیار جتلا رہی ہے


مریض کی جان داؤ پر لگی ہے                  ڈاکٹر صاحب کو ہڑتال کی پڑی ہے

او پی ڈی کی لائن بڑی ہے                       کیوں کہ میری ڈگری کی شان بڑی ہے

غریب مسکین کی خدمت کا خواب تھا          مگر اب گیراج میں بڑی گاڑی کھڑی ہے

درد سینے میں تھا یا تکلیف گھوٹنے میں      فلاں کمپنی کی دوائی سب سے بھلی ہے


گر دنیا کی حالت بگھڑ رہی ہے                   شیطان کی پرستش جو چل رہی ہے

نفسہ نفسی بڑھ رہی ہے                            مانگ کفر کی بھر رہی ہے

شان ظالم کی بڑھ رہی ہے                        ماند قسمت پڑ رہی ہے

ہوا کی بیٹی جل رہی ہے                           اور جان میری سلگ رہی ہے