Thursday, 28 July 2016

سرمئی کتاب اور گلابی گلاب

 سرمئی کتاب اور گلابی گلاب

                   (SAd)

   


سرمئی کتاب اور گلابی گلاب 
بھلا دونوں کا کیا تعلّق ہے 
مگر وہ پھر بھی 
اس گلابی گلاب کو
اس سرمئی کتاب کے 
صفحہ نمبر ١٤١ میں چھپاتی تھی 
اکثر شام کی چائے پیتے پیتے 
وہی کتاب اٹھاتی 
سینے سے لگا کر 
سانسوں کے قریب لے جاتی 
نجانے کس کی خوشبو تھی 
جو روح میں سما جاتی  
کبھی کبھی جب آنکھیں نم ہو جاتیں 
تو اکثر 
اسی سرمئی کتاب کا 
صفحہ نمبر ١٤١ کھولتی
گھنٹوں دیکھتی رہتی  
اور پھر بڑی احتیاط سے 
اس گلابی گلاب کو اٹھا کر 
سہلاتی رہتی تھی 
جی اپنا بہلایا کرتی 
مگر 
انتظار تھا جو کبھی کم نہ ہوتا  
کوئی تھا جو کبھی سنگ نہ ہوتا 
اکثر رات کو 
جب کروٹیں لیتے لیتے تھک جاتی 
تو اپنے سرتاج سے 
چھپتی چھپاتی 
اکثر ٹی وی لاؤنج میں جاتی 
سامنے شیلف پر پڑی 
وہی سرمئی کتاب اٹھاتے اٹھاتے 
گلابی گلاب گرا دیتی 
گلاب گرتا دیکھ کر 
اسکی آنکھ بھر آتی 
مانو پل بھر کے لئے سانس رک سی جاتی 
پھر بڑی احتیاط سے 
اس گلابی گلاب کو سمیٹنے لگ جاتی 
پھر اس گلابی گلاب کو میز پر رکھ کر 
اس سرمئی کتاب کو اٹھاتی 
پھر صفحہ نمبر ١٤١ کھول کر دیکھتی  
بیش بہا آنسو بہاتی 
ایک تصویر ہی تو تھی اس میں 
جس کو دیکھنے کی خاطر 
وہ ساری حکایات دہراتی تھی 
میرا لاڈلا بچہ ہے 
مجھے میری جان سے بھی  زیادہ پیارا ہے 
تڑیاں لگا لگا کر
دنیا بھر کو بتاتی تھی 
ہنستا کھیلتا دیکھ کر 
مسکرایا کرتی تھی 
مگر اس دن صبح کو 
وہ اک گلابی گلاب لئے 
جب اپنی ماں کے پاس آیا 
ہاتھ میں گلاب تھماتے ہی معصوم بولا 
ماما اس گلاب کو ہمیشہ اپنے پاس رکھیں گی ناں 
میں ہوں نہ ہوں اس کو سینے سے لگائی رکھیں کی ناں  
مجھے ہمیشہ اپنی یادوں میں یاد رکھیں ہی ناں  
بھول کر بھی نہ بھولیں گی ناں 
بیچاری انجان تھی 
کچھ سمجھ ہی نہ پائی 
ایسے ہی دانٹ دیا 
پوچھا بھی نہیں کیوں تمھیں کیا ہو جائے گا 
اگر پتا ہوتا تو شاید روک ہی لیتی 
سکول جانے ہی نہ دیتی 
آخر کیا گناہ کیا تھا 
جو ایسی سزا مل گئی 
ننھی سی جان مسکراہٹ لئے 
جب سکول چلی گئی 
نجانے کیوں دل گھبرانے لگ گیا 
رہ رہ کر وہ یاد آنے لگا 
ایسے لگا کچھ برا ہوگیا 
وہ ہمیشہ کے لئے دور چلا گیا 
اسی کشمکش میں آنکھ لگ گئی 
پھر شام ہوئی ایمبولنس کی آواز سے آنکھ کھلی 
ایمبولینس کی آواز تھی ہی ایسی 
پریشانی اور بڑھ گئی 
اور پھر جب لال کی لاش دیکھی 
تو جذبات قابو میں رکھ نہ سکی 
دھاڑیں مار مار رونے لگی 
آخر سکول ہی تو گیا تھا 
ایسا کیا ظلم کر دیا 
کہ کسی ظالم نے اس کی جاں لے لی 
خون کی ہولی کھیل کر 
درجنوں ماؤں کی جنت چھین لی 
خود کی آخرت بھی خراب کی 
اور ماؤں کی آہ بھی ساتھ لی 
ننھی جانیں ابدی نیند سلا دیں   
اور اپنی جان بھی ساتھ گنوا دی 
خیر اب تو بس 
گلابی گلاب ہے 
اور سرمئی کتاب 
مگر مجھے پھر بھی 
ایک بات سمجھ نہیں اتی 
سرمئی کتاب اور گلابی گلاب 
بھلا دونوں کا کیا تعلّق ہے 



Dedicated to Army Public School Peshawar Students,teachers and their Parents...



Friday, 15 July 2016

راضی

راضی

                        نائیل




عرضی بھی اس کی تھی
مرضی بھی اس کی ہے

ہم تو تب بھی راضی تھے
ہم تو اب بھی راضی ہیں

Friday, 24 June 2016

پھر کیوں؟؟؟

پھر کیوں؟؟؟ 

                               اسپیشل SAd



خودی میں جیتا ہوں
خودی میں مرتا ہوں

یارب! کیا میں تجھ سے
واقعی میں ڈرتا ہوں؟؟؟

نمازیں بھی پڑھتا ہوں
گناہ بھی کرتا ہوں

سجدے میں بھی جھکتا ہوں
حق بھی منگتا ہوں

پھر کیوں؟؟؟ پھر کیوں؟؟؟
دوسروں کے حقوق سلب کرتا ہوں

یارب! کیا میں تجھ سے
واقعی میں ڈرتا ہوں؟؟؟

بغض بھی رکھتا ہوں
حسد بھی کرتا ہوں

دل بھی دکھاتا ہوں
آگ بھی لگاتا ہوں

پھر کیوں؟؟ پھر کیوں؟؟؟
حاسد سے پناہ بھی منگتا ہوں

یارب! کیا میں تجھ سے
واقعی میں ڈرتا ہوں؟؟؟


صبح کو اٹھتا ہوں
دفتر بھی جاتا ہوں

کام سے چڑتا ہوں
مشقت سے ڈرتا ہوں

پھر کیوں؟؟؟ پھر کیوں؟؟؟
 صلہ میں آسائشیں منگتا ہوں

یارب! کیا میں تجھ سے
واقعی میں ڈرتا ہوں؟؟؟؟

قرآن بھی پڑھتا ہوں
حدیث بھی سنتا ہوں

خلقت کو ادنیٰ سمجھتا ہوں
خود اخلاق سے گرتا ہوں

پھر کیوں؟؟؟ پھر کیوں؟؟؟
بدلے میں عزت منگتا ہوں

یارب! کیا میں تجھ سے
واقعی میں ڈرتا ہوں؟؟؟

روزے  بھی رکھتا ہوں
راتیں بھی جگتا ہوں

حج کو بھی جاتا ہوں
استطاعت بھی رکھتا ہوں

پھر کیوں؟؟؟ پھر کیوں؟؟؟
زکات میں چوری فرض سمجھتا ہوں

یارب! کیا میں تجھ سے
واقعی میں ڈرتا ہوں؟؟؟

سادی سی زندگی ہے
اس میں نہ کوئی تنگی ہے

نوکری بھی لگی ہے
قسمت بھی دھنی ہے

پھر کیوں؟؟؟ پھر کیوں؟؟؟
ہر ہر خواہش پر جیتا مرتا ہوں

یارب! کیا میں تجھ سے
واقعی میں ڈرتا ہوں؟؟؟

یہ دنیا تو فانی ہے
اک دن مٹ جانی ہے

اک دن سب نے جان گنوانی ہیں
رب کے سامنے حاضری لگانی ہے

اور رب تو عالی ہے
رحمت اس نے دکھانی ہے

جس نے بھی کہا کہ کوئی رب نہیں اس کے سوا
اس کی مغفرت فرمانی ہے

پھرکیوں؟؟؟ پھر کیوں؟؟؟
کسی نے دنیا اور آخرت دونوں گنوانی ہے

سن اے انسان تو!!!
سن لے ذرا تو

خودی میں نہ جیا کر تو
خودی میں نہ مرا کر تو

رب سے ناتا جوڑ لے تو
بات یہی سیانی ہے

اسی رب کو یاد کیا کر کیا کر تو
اسی نے مغفرت فرمانی ہے

اس میں بھلا کیا پریشانی ہے
بس آسانی ہی آسانی ہے

بس اتنی سی کہانی ہے
قبر میں رات بتانی ہے

پھر کس کی مدد آنی ہے
رب نے ہی بگھڑی بنانی ہے

اسی کے ہاتھ میں ہی ناکامی ہے
اس کے سنگ ہی کامرانی ہے

گر یہ تبلیغ تو چلتی جانی ہے
مگر تجھ کو کب سمجھ آنی ہے؟؟؟؟


آخر کیوں ہم یہ بات نہیں سمجھتے کہ یہ دنیا فانی ہے. یہ زندگی اور اس کی تمام آسائشیں فانی ہے. یہ سب کچھ ایک دن ختم ہو جائے گا اور سب لوگ الله کے حضور پیش ہوں گے اور وہاں ہی سزا اور جزا کا فیصلہ کیا جائے گا. اسلئے میرے بھائیو!!! اپنی سمت سہی کرو اور الله کا ڈر دل میں بسا لو پھر دیکھنا وہ کیسے بگھڑی بناتا ہے اور دنیا اور آخرت میں کامیابی سے نوازتا ہے.......

Saturday, 18 June 2016

فروری کی پندھرویں برسات

فروری کی پندھرویں برسات
                                       نائیل 





نہ وہ نومبر کی پہلی شام تھی
نہ وہ دسمبر کی آخری رات تھی

نہ ہی وہ جنوری کی کوئی ساعت تھی 
ہاں مگر وہ فروری کی پندھرویں برسات تھی

جب ہم تم سے اور تم ہم سے بچھڑے تھے
ایسے جیسے اک ٹہنی کے دو پتے بکھرے تھے

گل گلستان سے اجھڑے  تھے
خواب ہمارے بکھرے تھے

انتظار! انتظار! انتظار!
اب تو بس انتظار ہے

جھاڑے کے موسم کے گزرنے کا انتظار ہے
گھڑی کی ٹک ٹک کے رکنے کا انتظار ہے

 اب تو بس ہمارے ملن کا انتظار ہے
وقت کے یکسر بدلنے کا انتظار ہے

انتظار! انتظار! انتظار!
اب تو بس انتظار ہے

Friday, 27 May 2016

غریب

غریب
                          SAd




ہاں میں غریب ہوں
خواہشوں کا مطیع ہوں

آسائشوں سے فصیح ہوں
مگر لذتوں کا صبیح  ہوں

محفلوں کا امیر ہوں
مگر حماقتوں کا جریر ہوں

گمان سے شفیع ہوں
مگر اخلاق سے قبیح ہوں

بظاہر تو میں مسیح ہوں
مگر باطن میں حقیر ہوں

ہمیشہ موقع کی تلاش میں رہتا ہوں
جہاں موقع مل جائے وہیں سب کا پیر ہوں

شاید اسی لئے دنیا میں تو رفیع ہوں
مگر حقیقت میں ایک مریض ہوں

کہنے کو تو طالب بقیع ہوں
مگر!!! مگر!!! میں تو باغئ  سمیع ہوں 

ہاں میں غریب ہوں
خواہشوں کا مطیع ہوں


*مفہوم الفاظ*
*مطیع ----- طابع ، فرمانبردار، غلام
* فصیح ---- یہاں مالا مال کے طور پر استعمال ہوا ہے
* جریر ---- دلیر، بہادر
*قبیح ---- بد، برا
*صبیح --- ادھر طلبگار کے طور پر استعمال ہوا ہے
*رفیع ---  کامیاب، بلند، ترقی یافتہ
*بقیع --- جہن بہت زیادہ درخت ہوں، جنت سے
*سمیع--- سننے والا، الله کا نام

Wednesday, 25 May 2016

The Fear

The Fear

                        SAd




The fear of dying
Dying from inside
Why it keeps haunting
The fear of losing
Losing someone very special
Why it keeps hurting
The fear of being alone
Alone in the dark
Why it keeps trembling
and
The fear of being unworthy
undesired
Why it keeps accumulating
When in reality
Life never stops
It goes on
The pendulum of the clock
Never stops
It Goes
On and on
Tick tock Tick Tock
Until those strange fears
The fears of becoming unknown
Becomes the reality
The very soul
That once matted
Matter no more

Matter no more

Friday, 13 May 2016

دل لگی

دل لگی

                      نائیل



وہ بولے:-
 جناب! آپ کی تو دل لگی تھی

ہم بولے:-
پھر دل پر کیوں لگی تھی؟

وہ بولے:-
جو بھی تھا مگر عشق نہیں تھا

ہم بولے:-
مگر وہ مرید بھی نہیں تھا

جو بھی تھا حسیں بہت تھا
اس کا نہ ہونا غمگیں بہت تھا

جب وہ تھا مانو ایسے تھا جیسے
میں ابھی اسی وقت سب کچھ وار دوں گا

اپنے سب غم، سب پریشانیاں
اک جھٹکے میں بھلا دوں گا

بس اس کو سنوں گا اور سنتا چلا جاؤں گا
وقت کے سب پیمانے یکسر گھما دوں گا

اس کو اتنا پیار دوں گا
کہ روٹھنا تک بھلا دوں گا

مگر کیا بتاؤں کہ میں خود ہی بیوفا نکلا
میں خود اپنے ہی درد میں مبتلا نکلا

جب اس کو میری ضرورت پڑی
میں ہی دنیا سے بیزار نکلا

مگر ابھی بھی امید کا دامن تو اب بھی نہیں چھوڑا
اک خواہش نے ناتا اب بھی نہیں توڑا

اک خواہش کہ کاش وہ راضی ہو جائے
اور وہ دل پر لگی پھر سے مان جائے

سب کچھ جیسا تھا ویسا ہی ہو جائے
وہ میرا ہنسنا وہ میرا کھیلنا سب لوٹ آئے

بس ایک بار اس کا جینا مرنا میرے سنگ ہو جائے
تنے تنہا یوں جینا بصم ہو جائے

اس کا ملنا ایک رسم ہو جائے
پھر چاہے آنکھ کا کھلنا بند ہو جائے

Friday, 6 May 2016

صیاد

صیاد  

                       نائیل 



دیدار صنم سے لیکر
دیدار یار تک
صیاد بیٹھے ہیں
تیار بیٹھے ہیں

بندوکیں اٹھائے
آستینیں چڑھائے
کرنے کو شکار
بلا عذر بے اختیار بیٹھے ہیں


دیدار صنم سے لیکر
دیدار یار تک
صیاد بیٹھے ہیں
تیار بیٹھے ہیں



آپ لوگوں کی پرزور فرمائش پر چھوٹی سی ننھی منھی سے غزل.....

Sunday, 24 April 2016

کفن بننے کا کاروبار

کفن بننے کا کاروبار

                        SAd



تپتی دھوپ میں چھاؤں جیسے
سلگتی ریت میں برکھا ویسے
دہکتے انگاروں سے آنسؤ ٹپکے
کھلتی کلیوں سے دھرتی لرزے
ڈھلتی عمر میں جوانی چھلکے
مہکتی فضا میں خوشبو برسے
کیسے کیسے دنیا انساں پرکھے
بات بات پر کاٹنے کو ترسے
شاید ہم اندھے گونگے بہرے ہیں
اسی لئے داغ الفت سہتے ہیں
گر جینے مرنے کی دھن میں رہتے ہیں
زندگی میں خودی ویرانی چنتے ہیں
پھر کچھ  بڑے بڑے بول بولتے ہیں
بلا وجہ خود ہی خودی میں جیتے ہیں
کہتے ہیں تو سہی ہی کہتے ہیں
مگر اپنی ہی رت میں جیتے ہیں
سننا چاہیں تو کچھ اور ہی سنتے ہیں
اور سمجھنے میں چپ ہی رہتے ہیں
شاید اسیلئے نظام زندگی جیسا چلتا ہے چلنے دو
ننھی سی جان کو اپنی موت آپ مرنے دو
ہمیں خواب غفلت سے مت جگاؤ
ہم گہری نیند میں ہیں ہمیں سونے دو
ہمارا کفن بننے کا کاروبار ہے
ہم کو کفن بننا ہے ہم کو کفن بننے دو

Saturday, 16 April 2016

وعظ اخلاق

وعظ اخلاق

                                   (SAd Special)




تہذیب و تمدن کا دستور ہے اخلاق
جیون کا حصول ہے اخلاق

بچپن کا پہلا درس ہے اخلاق
بڑھاپے کا مسکن ہے اخلاق

رؤسا کا افق ہے اخلاق
فقراء کا حسن ہے اخلاق

صابر کی صفت ہے اخلاق
منصف کی زد ہے اخلاق

حکومت کا طرز ہے اخلاق
دشمن پر کالی ضرب ہے اخلاق

زندگی کا قرب ہے اخلاق
موت کا ضبط ہے اخلاق

اسوۂ حسنہ کا حاصل ہے اخلاق
بندگی کی حمد ہے اخلاق

گویا انسان کی سیرت ہے اخلاق
نہیں تو جانور کی نسبت ہے اخلاق


انسنیت کا نام ہے اخلاق
کامیابی کا راز ہے اخلاق

کتابوں سے بھرے ہیں افکار
جینے کا سلیقہ ہے اخلاق

غلط سہی کا فرق ہے اخلاق
عزت ذلّت کا ظرف ہے اخلاق

مسائل کا حل ہے اخلاق
مصائب پر ضرب ہے اخلاق

دلیری کا رمز ہے اخلاق
فسادی پر غضب ہے اخلاق

 آؤ سب مل کر عہد کریں
کہ بلند کریں گے وعظ اخلاق

پہلے خود سیکھیں گے اخلاق
پھر سیکھائیں گے دنیا کو اخلاق

 پڑھائیں گے نئی نسل کو باب اخلاق
سیکھو، سمجھو اور سکھاؤ اخلاق!!

جہاں بداخلاق کا نہ کوئی ساتھی نہ ہم ساز
وہیں سب سے بہتر وہ ہے جسکا بلند ہے اخلاق

گر بھرتے جائیں گے صفحے آج
مگر ختم نہیں ہوگا یہ وعظ اخلاق



کافی دن ہو گئے تھے SAd# نے آپ کو مخاطب نہیں کیا اور نائیل نے عشق معشوقی کی رٹ لگائی رکھی مگر آج پھر اس کو جاگ آ ہی گئی ہے اور آپ کی خدمت میں کچھ عرض کر رہا ہے اگر آپ کو پیغام سمجھ آجائے تو دسروں تک بھی ضرور پہنچایئے گا شاید کسی اور کا بھی بھلا ہو جائے. اجازت طلب کرنے سے پہلے ایک بات ضرور کہوں گا کہ ہماری قوم اخلاقی پستی کا شکار ہے اور ہم لوگوں میں برداشت نہ ہونے کے برابر ہے. ہم لوگ دسروں پر تو انگلیاں اٹھاتے ہیں مگر اپنے گریبان میں نہیں جھانکتے. اگر ہم اپنی اصلاح شروع کر دیں تو ہماری عوام جس تبدیلی کے انتظار میں ہے وہ آجاۓ گی. بس یہ بات بھی ذہن میں بیٹھا لیں کہ اگر میں کوئی چیز کسی سے کوئی توقع رکھتا ہوں تو دوسرا بھی مجھ سے وہی توقع رکھتا ہے اور جو چیز میں چاہتا ہوں وہ بھی وہی چاہتا ہے پھر دیکھنا آپ خود میں کتنی بڑی تبدیلی محسوس کریں گے.
شکریہ!!!

Friday, 8 April 2016

آکھاں

آکھاں

(SAd)                        
   

      

یار آکھاں کہ پیار آکھاں
جے توں آکھیں تے دلدار آکھاں
بس اک واری جے کہہ دویں
کہ تو میری ایں
پھیر اک واری کی لاکھ وار آکھاں
سن سجنئیے!!!
عشق دی پہلی سیڑھی چڑھنی سوکھی نئ
جے چڑھ جاویں
پھیر دلدار کی دل وال آکھاں
تیری اکھاں وچ انجوں چنگے نئ لگدے
روندے کڑھدے سجن دل وچ نئ وسدے
اک واری پھیر جے حس کے دکھا دویں
سوہنا مکھڑا چم چم کردہ وکھا دویں
تاں جندڑی ساری تیری *دیعت آکھاں
یار دی پریت اپنی ریت آکھاں
یار آکھاں کہ پیار آکھاں
جے توں آکھیں تے دلدار آکھاں

* یہاں امانت کے طور پر استمعال ہوا ہے

Wednesday, 30 March 2016

اک بار

اک آخری بار
                 نائیل 



بس!!!
اک بار!!!
اک آخری بار!!!
تمھیں دیکھنا چاہتے ہیں
تمہاری بھولی بھالی
معصوم سی صورت
دل میں بسانا چاہتے ہیں
تمہاری نظروں سے
نظریں ملا کر
دل کی باتیں کرنا چاہتے ہیں
تمھیں!!! بس تمھیں!!!
سننا چاہتے ہیں
سمجھنا چاہتے ہیں
بس تمھارے ساتھ
کچھ پل بیتانا چاہتے ہیں
تھوڑا ہنسنا چاہتے ہیں
تھوڑا رونا چاہتے ہیں
ان پرانی یادوں کو
ان حسین ملاقاتوں کو
پھر سے جینا چاہتے ہیں
گر اک آخری بار
تمہارے دل کی
دھڑکن سننا چاہتے ہیں
ہمیں آج بھی یاد ہے
وہ تمہارا بات بات پر لڑنا
شکوے شکایتیں کرنا
ہمارا بے پناہ انتظار کرنا
خود دیر سے آنا
اور آتے ہی
 سارا ملبہ ہم ہی پر ڈالنا
بغیر کچھ کہے، بغیر کچھ سنے
ہمیں ہی قصور وار ٹھہرانا
اتنا بے بس کر دینا
کہ
چوں تک پر بھڑک جانا
پھر جب ہم نے
اپنے حق میں صفائی پیش کرنا


تو تم نے منہ پھلا کر بیٹھ جانا
پھر ہم نے گھنٹوں منانہ
تم نے مسلسل نظریں چرانا
ہم نے معافی معافی کی رٹ لگانا
تو تم نے تھوڑا سمبھل جانا
جیسے ہی ہماری جان میں جان آنا
تم نے عہد و پیماں لینا
ہم نے لبیک لبیک دوہرانا
پھر آخر میں
 وہ تمہارا مسکرا دینا
سب اک پل میں بھلا دینا
پیار بھری نظروں سے
محبت کے تیر برسا دینا
بس!!! 
اسی ادا پر ہم مر گئے تھے
نٹ کھٹ لمحوں میں بس گئے تھے
پھر نجانے کس کی نظر لگ گئی
ہماری منت حسرت بن گئی
تمہاری یاد فطرت بن گئی
اکیلے بیٹھنا عادت بن گئی
یونہی بیٹھے بیٹھے
کبھی ہنسنا، کبھی رونا
ضرورت بن گئی
اک تیری نراضگی
وبال جاں بن گئی
روز جینا، روز مرنا
عادت بن گئی
ہماری ایک غلطی
ہمارے گلے پڑ گئی
نادان تھے
نادانی کر گئے
معافی بھی کیسے ملتی
جانے انجانے
کیسی شیطانی کر گئے
ہنسی کھیلتی محبتیں بانٹتی
چاند سی پری
کی
دل آزاری کر گئے
ہم تو اب
معافی کے طلبگار ہیں
شاید کسی دن
انکا من ہلکا ہو جائے
شاید ان کا دل
ہماری معصومیت کا گواہ بن جائے
وہ مان جائے
سب بھول جائے
بس!!!
اک آخری بار!!!
ہماری التجا قبول ہو جائے
ہمیں معافی مل جائے
ہمیں معافی مل جائے

Sunday, 14 February 2016

سنو

سنو!!!

                 نائیل



سنو!!!
مجھے تم سے
کچھ کہنا ہے
اک بار تم کو
سینے سے لگانا ہے
سینے سے لگا کر
حال دل سنانا ہے
حال دل سنانا کر
اقرار عشق سننا ہے
اقرار عشق میں سننا ہے
کہ تمھیں مجھ سے پیار ہے
اتنا پیار جتنا کہ
سوہنی کو ماہیوال سے تھا
اور ہیر کو رانجھا سے تھا 
اور سسسی کو پننو سے تھا 
اور صاحبہ کو مرزا سے تھا
اور اتنا جتنا کہ
لیلیٰ کو منجنو سے تھا
فقط اتنا پیارکہ جس کی روشنی سے
چاند ستارے بھی مدھم پڑ جائیں
اظہار کی خاطر
الفاظ بھی کم پڑ جائیں
ناز کی خاطر
نکھرے بھی کم پڑ جائیں
ملاقات کی خاطر
شامیں بھی کم پڑ جائیں
ساتھ کی خاطر
ہماری عمریں بھی کم پڑ جائیں
نذر و نیاز کی خاطر
ہماری جانیں بھی کم پڑ جائیں 
حتیٰ کہ وفا کی خاطر
بیوفائی بھی کم پڑ جائے
بس اک بار سینے سے لگ کر
تم جو کہہ دو
میں بس تمہاری ہوں
جدائی کی ماری ہوں
تم جو ہاں کہہ دو
پھر اس دنیا سے عاری ہوں
اب کی بار جو سینے سے لگایا ہے
پھر سے جو دل میں بسایا ہے
ساتھ نبھانے کا عہد جو دوہرایا ہے
تو اس پر قائم رہنا
مجھ سے کبھی دور نہ جانا
اگر تم چلے گئے
تو میں لٹ جاؤں گی
زندگی ہار جاؤں گی
جینے کی تمنا بھول جاؤں گی
سنو!!!
تم جو لٹ گئی
تو میں بھی لٹ جاؤں گا
تم جو ہار گئی
تو میں بھی ہار جاؤں گا
اگر تمہاری جینے کی تمنا نہ رہی
تو میں تو مر ہی جاؤں گا
اب تو بس
رب سے یہی دعا ہے
کہ اس بار جو
تمہارا ساتھ دیا ہے
تو اس ساتھ کو
ہمارے نصیب میں کرے
شیطان کی چالوں سے
ہماری حفاظت کرے
سب سے بڑھ کر
ہماری محبت کو
ہمارے ساتھ کو
ابد تک
قائم و دائم رکھے
آمین!

میں نے یہ غزل کچھ اور سوچ کر لکھنا شروع کی تھی مگر اس کی کوئی اور ہی شکل نکل آئی ہے. خیر اس غزل میں میں نے میاں بیوی کی تعلّق کو ناراضگی ہونے کے بعد ان کی صلح ہونے کے عمل کو موضوع بنایا ہے(حالاں کہ مجھے خاک نہی پتا کیوں کہ میری کونسا ہوئی ہے شادی). مگر پھر بھی امید ہے آپ کو پسند آئی گی. اپنی آراء سے ضرور اگاہ کی جئے گا.